اکثر پوچھے جانے والے سوالات
وصیت کی ذمہ داریوں، ادائیگیوں اور طریقِ کار کے بارے میں جوابات تلاش کریں۔
چندہ شرطِ اوّل وہ یک مشت چندہ ہے جو درخواست کنندہ وصیت کی پہلی شرط کے تحت ادا کرتا ہے، اور جس کا حکم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ الوصیت میں دیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں اس چندہ کی غرض یہ ہے:
”سو پہلی شرط یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اس قبرستان میں مدفون ہونا چاہتا ہے وہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے اِن مصارف کے لئے چندہ داخل کرے۔“
الوصیت صفحہ ۲۴
بنیادی اصول یہ ہے کہ وصیت کا خواہش مند اپنی توفیق کے مطابق یہ چندہ ادا کرے تاکہ مقبرہ کے انتظام اور دیکھ بھال کی ضروریات پوری ہو سکیں۔ اس لیے وصیت کے خواہش مند کو یہ چندہ اپنی آمد، اپنے اثاثہ جات اور مقبرہ موصیان کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ادا کرنا چاہیے۔
قواعدِ وصیت کے قاعدہ نمبر 28 کے مطابق:
”وصیت کنندہ کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ مقبرہ بہشتی اور اس کے باغ وغیرہ کے قیام اور راستہ کی درستی اور دیگر متفرق اخراجات کے لیے اپنی حیثیت کہ مطابق وصیت کرنے کے ساتھ کچھ چندہ داخل کرے جوزر وصیت کے علاوہ ہو۔ یہ چندہ شرطِ اوّل کہلاتا ہے۔“
الوصیت، شرط نمبر 1
چندہ اعلانِ وصیت وہ یک مشت چندہ ہے جو درخواست کنندہ جماعتی اخبارات و رسائل میں اپنی وصیت کے اعلان کی اشاعت کے لیے ادا کرتا ہے۔ وصیت کی تشہیر کے اخراجات کے لیے کوئی رقم معین نہیں ہے ملکی حالات کے مطابق اس میں تبدیلی آتی رہتی ہے؛ درخواست کنندہ اپنے حالات کے مطابق جو رقم چاہے ادا کر سکتا ہے۔
قواعدِ وصیت کے قاعدہ نمبر 29 کے مطابق:
”وصیت کنندہ کے لیے یہ بھی لازمی ہوگا کہ بوقت وصیت چند شرط اول کے علاوہ اخراجات اعلان وصیت بھی ادا کرے“
اس صورت میں اسے اپنی اندازہ ماہانہ آمد تحریر کرنی چاہیے یا چھ ماہ یا سال کی آمد کی اوسط تحریر کر دینی چاہیے۔ اپنے رہن سہن کے لحاظ سے کوئی ایسی مناسب رقم بطور جیب خرچ معین کر سکتے ہیں جس پر وہ اپنا چندہ ادا کر سکیں۔
چندہ وصیت کی کم سے کم شرح 1/10 اور زیادہ سے زیادہ 1/3 ہے۔ ایک موصی حصہ جائیداد اور حصہ آمد کے لیے الگ الگ شرحیں مقرر کر سکتا ہے۔ وصیت کے فارم میں حصہ جائیداد کی شرح پہلے صفحہ پر جائیداد کے اندراج والے حصہ میں، اور حصہ آمد کی شرح دوسرے صفحہ پر آمد کے اندراج والے حصہ میں درج کی جاتی ہے۔
موصی اپنی زندگی میں کسی بھی وقت اپنی شرحِ وصیت تبدیل کر سکتا ہے — خواہ صرف حصہ جائیداد کی، خواہ صرف حصہ آمد کی، یا دونوں کی۔
درخواست کنندہ کو درج ذیل جائیداد ظاہر کرنا ہوں گی:
- رہائشی و تجارتی جائیداد (خواہ اس پر مارگیج/قرض ہو)
- زمین
- زیورات
- اسٹاکس، بانڈز اور ای ٹی ایفز (ETFs)
- 401(k) اور IRA اکاؤنٹس
- کاروباری سرمایہ کاری
- نقد بچت
- سیونگ اکاؤنٹ میں موجود رقم
- حق مہر
- دیگر اثاثہ جات
جی ۔ قرض یا مارگیج پر حاصل کی گئی جائیداد موصی ہی کی جائیداد شمار ہوتی ہے، اس لیے اسے وصیت کے فارم میں اس کی تخمینی مارکیٹ ویلیو اور پتہ کے ساتھ ظاہر کرنا ضروری ہے۔ اگر موصی آئندہ اسی نوعیت کی کوئی جائیداد حاصل کرے تو اس کی اطلاع بھی مرکز کو دینا اس پر لازم ہے۔
جی۔ شادی شدہ خاتون کی وصیت پر، اگر اس کا خاوند حیات ہو، تو اس کے دستخط ضروری ہیں۔ حق مہر خاتون کے اثاثہ جات کا حصہ شمار ہوتا ہے، اس لیے اسے وصیت میں درج کرنا چاہیے اور ساتھ یہ بھی لکھنا چاہیے کہ وہ وصول ہو چکا ہے یا ابھی واجب الادا ہے۔ خاوند کی ماہانہ آمد بھی درج کرنا ضروری ہے، اور اگر وہ موصی ہو تو اس کا نمبرِ وصیت بھی۔
ہر احمدی جو بلوغت کی عمر( جو عموما 15 سال ہے) کو پہنچ چکا ہو وصیت کرنے کا اہل ہوگا۔ البتہ جہاں بلوغت قانونی اور بلوغت شرعی کی عمر میں تفاوت ہو وہاں متعلقہ ملکی قانون کے مطابق حصول بلوغت پر وصیت کی تجدید لازمی ہوگی۔ (قاعدہ وصیت نمبر 20)
وصیت کیوں ضروری ہے اور کس عمر میں نظامِ وصیت میں شامل ہوا جا سکتا ہے؟ یہاں ملاحظہ فرمائیں۔
نظامِ وصیت میں کس عمر میں شامل ہوا جا سکتا ہے؟ یہاں ملاحظہ فرمائیں۔
اگر درخواست کنندہ طالبِ علم ہے تو وہ ہر ماہ ملنے والے جیب خرچ پر حصہ آمد ادا کرے گا۔ وظائف (stipends) چندہ سے مستثنیٰ ہیں۔
اگر درخواست کنندہ طالبِ علم نہیں ہے اور اس کا کوئی ذاتی ذریعہ آمد نہیں (مثلاً غیر کمانے والی خاتونِ خانہ)، تو اسے اپنے معیارِ زندگی کے مطابق ایک رقم مقرر کرنی چاہیے جسے جیب خرچ شمار کیا جائے، اور اسی کے مطابق چندہ حصہ آمد ادا کرنا چاہیے۔ جماعت احمدیہ امریکہ کے لیے مرکز کی جانب سے مقرر کردہ کم سے کم معیارِ آمد (جسے غیر کمانے والے اراکین، بشمول خواتینِ خانہ، کے لیے ”جیب خرچ“ بھی کہا جاتا ہے) 250 ڈالر ماہانہ ہے۔ اس آمد کی بنیاد پر 1/10 کی شرحِ وصیت کے مطابق واجب الادا چندہ حصہ آمد 25 ڈالر ماہانہ بنتا ہے۔ یہ قاعدہ طلبہ پر لاگو نہیں ہوتا۔
طلبہ کم از کم 15 سال کی عمر سے نظامِ وصیت میں شامل ہو سکتے ہیں۔ وہ اپنے جیب خرچ پر حصہ آمد ادا کریں گے۔ غیر کمانے والے موصیان کے لیے مرکز کی مقرر کردہ 250$ ڈالر کی کم سے کم آمد طلبہ پر لاگو نہیں ہوتی، اور طلبہ کو ملنے والے وظائف بھی چندہ وصیت سے مستثنیٰ ہیں۔
کیا طلبہ کو نظامِ وصیت میں شامل ہونا چاہیے؟ یہاں ملاحظہ فرمائیں۔
اگر کسی شخص نے کبھی حضرت خلیفۃ المسیح سے چندہ عام میں معافی کی درخواست کی ہو اور بعد میں دوبارہ باقاعدگی سے چندہ عام ادا کرنے لگا ہو تو وہ وصیت کر سکتا ہے۔ تاہم درج ذیل قواعد لاگو ہوں گے:
- جس شخص نے کم شرح پر چندہ عام ادا کرنے کی اجازت حاصل کی ہو، اسے وصیت کی درخواست دینے سے پہلے کم از کم ایک سال پوری شرح پر چندہ ادا کرنا ہو گا۔
- جس شخص نے گزشتہ سالوں میں چندہ عام سے مکمل استثنا حاصل کیا ہو، اسے وصیت کی درخواست دینے سے پہلے کم از کم دو سال پوری شرح پر چندہ ادا کرنا ہو گا۔
اگر وصیت کنندہ کی آمد اور جائیداد کے ساتھ دیگر شرائط مکمل ہیں تو وصیت کرنے میں کوئی قاعدہ روک نہ ہے اور قرض وصیت کی راہ میں روک نہ ہے۔ کیونکہ قرضہ کی زندگی میں تو کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ مقروض کی حالت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اگر تو قرض لے کر کوئی جائیداد بنائی ہے جس سے آمد ہو رہی ہے یا قرضہ لے کر کوئی کاروبار شروع کیا ہے اور اس سے آمد ہو رہی ہے تو ایسی صورت میں وصیت کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر کسی فرد جماعت کی اپنی کوئی آمد اور جائیداد نہیں اور اپنے مستقل گزارہ کے لئے قرض پر انحصار کر رہا ہے تو ایسے شخص پر وصیت کرنا لازم نہیں۔ اور اس کی وصیت منظور نہیں ہو سکتی۔
ہر ایک موصی جماعتی نظام کے تحت کی گئی وصیت کی تعمیل کا مکمل طور پر پابند ہو گا اور اس پر حسبِ تحریر عمل ہو گا۔ وصیت کنندہ سے اسی لئے جماعتی نظام کے تحت یہ تحریر لی جاتی ہے کہ یہ اس کی آخری وصیت ہو گی۔ یعنی وہ بعد میں کوئی ایسی وصیت نہیں کر سکتا جو کسی صورت میں اس وصیت پر اثر انداز ہو سکے۔ لہٰذا مقامی طور پر کی گئی کوئی وصیت جماعتی نظام کے تحت کی گئی وصیت سے متصادم نہ ہو سکے گی۔ بلکہ صدر انجمن کے حق میں کیا گیا حصہ مقامی وصیت میں ایک قرض کے طور پر ظاہر ہونا چاہیے۔
قواعدِ وصیت میں مجلسِ کارپرداز کے ضوابط میں درج ہے:
”کم سے کم آمد: چونکہ موصی سے غیر معمولی قربانی متوقع ہے، اس لیے اس بات کا اندازہ لگایا جانا چاہیے کہ کسی خاص ملک میں گزر بسر کے لیے کم سے کم کتنی آمد درکار ہے۔ وصیت کی منظوری پر غور کرتے وقت اس کم سے کم آمد کو پیشِ نظر رکھا جائے۔“
اسی کے مطابق مجلسِ کارپرداز نے مارچ 2008ء میں امریکہ کے غیر کمانے والے موصیان کے لیے چندہ وصیت کی خاطر کم سے کم معیارِ قربانی 250$ ڈالر ماہانہ آمد (جیب خرچ) مقرر کیا۔
جی۔ اس صورت میں موصی اپنے آبائی ملک میں ملنے والی پنشن پر بھی حصہ آمد ادا کرے گا اور امریکہ میں اپنے اخراجاتِ زندگی کی بنیاد پر بھی حصہ آمد ادا کرے گا۔ مجلسِ کارپرداز ربوہ کی جانب سے امریکہ کے غیر کمانے والے موصیان کے لیے کم سے کم آمد (جیب خرچ) 250 ڈالر ماہانہ مقرر ہے۔
اصولی طور پر حصہ آمد اُسی ملک میں ادا کرنا ضروری ہے جہاں آمد وصول ہو رہی ہو۔ تاہم اگر موصی کا آبائی ملک میں کوئی ایسا فرد نہ ہو جو اس کی طرف سے چندہ حصہ آمد جمع کرا سکے، تو موصی کو دفترِ وصایا امریکہ کو تحریر کر کے اس خصوصی انتظام کے لیے مرکز سے اجازت طلب کرنی چاہیے۔ صرف مرکز کی منظوری کی صورت میں ہی حصہ آمد امریکی ڈالر میں ادا کیا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں موصی کو ہر سال دو الگ الگ فارم جدول ج/ شیڈول سی (Schedule C) فارم جمع کرانے ہوں گے: ایک امریکہ میں واجب الادا حصہ آمد کے اعلان کے لیے اور دوسرا دوسرے ملک میں واجب الادا حصہ آمد کے اعلان کے لیے۔
موصی پر لازم ہے کہ:
- الف) اپنی وفات پر اپنی جائیداد کا 1/10 سے 1/3 حصہ وصیت کرے۔
- ب) اپنی زندگی میں جائیداد سے حاصل ہونے والی آمد کے سوا تمام ذرائع سے حاصل ہونے والی آمد پر 1/10 سے 1/3 کی شرح سے چندہ حصہ آمد ادا کرے۔
- ج) کسی بھی جائیداد سے حاصل ہونے والی آمد پر چندہ عام کی شرح (یعنی 1/16) سے چندہ حصہ آمد ادا کرے۔
جس موصی کا اپنا کوئی ذریعہ آمد نہ ہو اس کے بارے میں مروجہ طریق یہ ہے کہ اس کا شریکِ حیات ایک مناسب رقم بطور جیب خرچ مقرر کرے، جسے وصیت کے لحاظ سے موصی کی آمد شمار کیا جاتا ہے۔ اپنی مالی قربانی کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے موصی کو اسی جیب خرچ پر چندہ حصہ آمد ادا کرنا چاہیے۔
جیب خرچ موصی کے معیارِ زندگی کے مطابق ہونا چاہیے، اور موصی کی مالی قربانی چندہ عام ادا کرنے والے رکن کی قربانی سے ممتاز ہونی چاہیے۔ یہ جیب خرچ اُس کم سے کم رقم سے کم نہیں ہونا چاہیے جو مجلسِ کارپرداز نے ملکِ رہائش کے لیے مقرر کی ہے۔جماعت احمدیہ امریکہ کے لیے مجلسِ کارپرداز نے کم سے کم معیارِ آمد (جسے غیر کمانے والے اراکین، بشمول خواتینِ خانہ، کے لیے ”جیب خرچ“ بھی کہا جاتا ہے) 250$ ڈالر ماہانہ مقرر کیا ہے۔ اس رقم کی بنیاد پر 1/10 کی عام شرحِ وصیت کے مطابق کم سے کم واجب الادا چندہ حصہ آمد 25$ ڈالر ماہانہ بنتا ہے۔ اگر کسی موصی نے اس سے زیادہ شرحِ وصیت مقرر کر رکھی ہو تو اسی 250$ ڈالر ماہانہ جیب خرچ پر اسی شرح کے مطابق حصہ آمد شمار کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ قواعد کے مطابق وہ تمام موصیان جن کی اپنی کوئی آمد نہیں (مثلاً خواتینِ خانہ) اپنے معیارِ زندگی کے مطابق حصہ آمد ادا کرنے کے پابند ہیں۔ 250$ ڈالر ماہانہ آمد ایسے موصیان کے لیے مالی قربانی کا کم سے کم معیار ہے؛ اگر اُنہیں اس سے زیادہ جیب خرچ ملتا ہو تو حصہ آمد اسی کے مطابق ادا کیا جائے۔(یہ قاعدہ طلبہ پر لاگو نہیں ہوتا)
نہیں۔ غیر کمانے والی خاتونِ خانہ پر 250 ڈالر ماہانہ جیب خرچ کی بنیاد پر کم سے کم مقررہ شرح کے مطابق حصہ آمد ادا کرنا لازم ہے۔
شادی شدہ طالبِ علم سے عموماً یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم، مثلاً پی ایچ ڈی یا میڈیکل کی تعلیم، حاصل کر رہا ہو گا، اور اسے یونیورسٹی سے ملنے والی کسی بھی ماہانہ آمد — مثلاً ریسرچ اسٹائپنڈ، فیلوشپ یا میڈیکل ریزیڈنسی کی تنخواہ — پر مقررہ شرحِ وصیت کے مطابق حصہ آمد ادا کرنا چاہیے۔
طلبہ کے لیے استثنا اُن کے شریکِ حیات تک وسیع نہیں ہوتا: غیر کمانے والی خاتونِ خانہ پر 250$ ڈالر ماہانہ جیب خرچ کی بنیاد پر کم سے کم مقررہ شرح کے مطابق حصہ آمد ادا کرنا بدستور لازم رہتا ہے۔
طلبہ کے وظائف اور اسکالرشپس پر مقررہ شرحوں کے مطابق چندہ واجب نہیں۔ تاہم طلبہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ جماعت کے مشورہ سے ایک رقم مقرر کریں اور اسی کے مطابق اپنا چندہ ادا کریں۔
جس آمد پر چندہ واجب ہے اس سے مراد تمام ذرائع سے حاصل ہونے والی ہر قسم کی آمد ہے۔ حقیقی آمد میں سے صرف درج ذیل ادائیگیاں منہا کی جا سکتی ہیں:
- وہ الاؤنسز جو ملازمین کو ملتے ہیں مگر جن کا خرچ ملازم کے اختیار میں نہیں ہوتا۔
- حکومت کی جانب سے عائد کردہ لازمی وفاقی اور ریاستی ٹیکس۔
- ملازمین کو مخصوص اخراجات کے لیے دیے جانے والے الاؤنسز، مثلاً یونیفارم الاؤنس، تعلیمی الاؤنس یا بچوں کا الاؤنس۔
- سرکاری فرائض کی ادائیگی کے لیے دیے جانے والے الاؤنسز، مثلاً ٹریولنگ الاؤنس (TA) یا ڈیلی الاؤنس (DA)۔
غیر موصی اراکین حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو تحریر کر کے چندہ عام میں رعایت یا معافی کی درخواست کر سکتے ہیں۔ تاہم قواعدِ وصیت کے تحت کسی موصی کو حصہ آمد یا حصہ جائیداد کے واجبات میں معافی نہیں دی جا سکتی۔
قاعدہ 60:واجبات وصیت کا بقایا کسی صورت میں معاف نہیں ہو سکے گا۔
قواعدِ وصیت میں شدید مالی تنگی کی صورت میں صرف یہی گنجائش موجود ہے کہ وصیت منسوخ کرا لی جائے۔
قاعدہ 66: جو موسی اپنی وصیت بوجہ عدم استطاعت جاری نہ رکھ سکتا ہو تو اس کی درخواست پر اس کی وصیت منسوخ کر دی جائے گی۔
اگر موصی بعد میں اپنی وصیت بحال کرانا چاہے تو قاعدہ 75 لاگو ہو گا:
قاعدہ 75: جو وصیت زیر قاعدہ 66 منسوخ کر دی گئی ہو اس کی بحالی موصی کی درخواست پر انہیں شرائط پر زیر غور آ سکتی ہے جو نئی وصیت کے لیے مقرر ہے نیز ضروری ہوگا کہ موصی مذکورہ:
- وصیت کی منسوخی کے وقت کا بقایہ چندہ وصیت ادا کرے۔
- عرصہ منسوخی وصیت کے دوران چندہ عام کی ادائیگی باقاعدگی سے کرتا رہا ہو۔
- عرصہ منسوخی وصیت کے دوران ادا کردہ چندہ عام اور واجب حصہ امد کا فرق بھی ادا کرے۔
نوٹ: اگر موصی مذکورہ بوجہ سابقہ وصیت بحال نہ کرا سکے تو اس کی نئی وصیت کی درخواست مجلس کار پرداس کے زیر غور آسکتی ہے۔ ایسی صورت میں مذکورہ بالا میں سے شق (iii) کی پابندی لازمی نہ ہوگی۔
ریزولوشن صدر انجمن احمدیہ نمبر 11، صدر انجمن احمدیہ پاکستان، مورخہ 13 اپریل 1989ء
نہیں۔ مکان یا گاڑی کی انشورنس جیسی ادائیگیاں، خواہ وہ لازمی ہی کیوں نہ ہوں، چندہ کے لحاظ سے کل آمد میں سے منہا نہیں کی جا سکتیں۔ جہاں مارگیج کمپنی سے قرض لینے کے لیے مکان کی انشورنس کرانا ضروری ہو، وہاں بھی فائدہ خریدار ہی کو پہنچتا ہے، اس لیے ایسے اخراجات عام اخراجات ہی شمار ہوتے ہیں۔ چندہ کے لحاظ سے اپنی حقیقی آمد میں سے کوئی قسط، مارگیج کی ادائیگی، سود یا انشورنس منہا کرنا جائز نہیں۔
جی۔ جہاں موصی کی جائیداد سے کوئی آمد حاصل ہو، وہاں اس آمد پر چندہ عام کی شرح یعنی 1/16 کے مطابق حصہ آمد واجب ہے۔
مرکز کی طرف سے درج ذیل راہنمائی عطا ہوئی ہے:
- الف) جب کسی شخص کے پاس نقد جائیداد خریدنے کی استطاعت نہ ہو تو وہ قرض لے کر جائیداد خریدتا ہے۔ اگر وہ اپنی زندگی میں اس جائیداد کا حصہ جائیداد ادا کرنا چاہے تو قرض کی ذمہ داری اسی پر ہو گی اور اسے تشخیص کے وقت کی جائیداد کی قیمت کے مطابق حصہ جائیداد ادا کرنا ہو گا۔ زندگی میں لیا گیا قرض شمار نہیں کیا جاتا، کیونکہ ہر شخص وقتاً فوقتاً قرض لیتا اور ادا کرتا رہتا ہے۔
- ب) ایک شخص پہلے ذریعہ آمد پیدا کرتا ہے اور اس پر حصہ آمد ادا کرتا ہے۔ پھر باقی ماندہ آمد سے، خواہ نقد ہو یا اقساط پر، جائیداد خریدتا ہے۔ اس جائیداد پر وصیت کی ادائیگی موصی کی وفات کے بعد لازم ہوتی ہے — البتہ موصی کے پاس یہ آسان صورت بھی موجود ہے کہ وہ چاہے تو یہ رقم اپنی زندگی ہی میں ادا کر دے۔
- ج) حصہ جائیداد کی شرح وہی ہو گی جو موصی نے خود اپنے لیے مقرر کی، یعنی 1/10 سے 1/3 کے درمیان۔
- د) حصہ جائیداد باقاعدہ تشخیص کے وقت کی موجودہ مارکیٹ ویلیو پر واجب ہو گا، سوائے اس صورت کے جب موصی نے اسی جائیداد پر خریداری کے وقت پہلے ہی حصہ جائیداد ادا کر دیا ہو۔
جب کوئی موصی اسٹاکس، ای ٹی ایفز یا کسی اور کاروبار میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو حصہ آمد صرف اُس سرمایہ کاری سے حاصل شدہ نفع (اگر کوئی ہو) پر واجب الادا ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر، اگر ایک موصی دس ہزار ڈالر ($10,000) مالیت کے اسٹاکس، ای ٹی ایفز یا قیمتی دھاتیں مثلاً سونا یا چاندی خریدتا ہے اور بعد میں انہیں پندرہ ہزار ڈالر ($15,000) میں فروخت کر دیتا ہے تو حصہ آمد پانچ ہزار ڈالر ($5,000) کے نفع پر واجب الادا ہوگا۔
اسی طرح، اگر ایک موصی پچاس ہزار ڈالر ($50,000) کسی ہاؤس فلپنگ (مکان خرید کر، مرمت کے بعد فروخت کرنے کے) کاروبار میں لگاتا ہے، مکان کی تزئین و آرائش کرتا ہے اور اسے فروخت کر کے بیس ہزار ڈالر ($20,000) خالص نفع حاصل کرتا ہے تو حصہ آمد اسی بیس ہزار ڈالر کے نفع پر واجب الادا ہوگا۔
لیکن اگر موصی کی وفات اس حالت میں ہو کہ وہ سرمایہ کاری اب بھی اُس کی ملکیت میں ہو، تو اُس کی مالیت موصی کے ترکہ میں شامل ہوگی، جس پر حصہ جائداد ادا کرنا ہوگا۔
جی۔ اصولِ وصیت کے مطابق جب بھی نقد رقم یا بچت کسی جائیداد کی صورت اختیار کر لے تو وہ ایسی جائیداد بن جاتی ہے جس پر حصہ جائیداد واجب ہے۔ جب دوسری جائیداد خریدی جائے تو وہ ایک اضافی جائیداد شمار ہوتی ہے اور اس کی الگ تشخیص کی جاتی ہے۔
یہ صورت اُس صورت سے مختلف ہے جس میں موصی پہلے اپنی موجودہ جائیداد فروخت کرتا ہے اور پھر اسی رقم سے متبادل جائیداد خریدتا ہے۔ اس صورت میں نئی خریدی گئی جائیداد پہلی کا متبادل شمار ہوتی ہے اور حصہ جائیداد صرف دونوں جائیدادوں کی قیمت کے فرق پر شمار کیا جاتا ہے۔
مذکورہ صورت میں چونکہ دوسری جائیداد پہلا مکان فروخت کرنے سے پہلے خریدی گئی، اس لیے موصی ایک وقت دونوں جائیدادوں کا مالک ہے۔ چنانچہ نئی خریدی گئی جائیداد ایک اضافی اثاثہ ہے اور اصولِ وصیت کے مطابق اس پر بھی حصہ جائیداد واجب ہو گا۔
اس لیے اگر موصی اپنی زندگی میں دونوں جائیدادوں کا حصہ جائیداد ادا کرنا چاہے تو ہر جائیداد کی الگ تشخیص کرائی جائے گی اور ہر ایک پر اس کی تشخیص شدہ قیمت کے مطابق حصہ جائیداد واجب ہو گا۔
جی۔ ریٹائرمنٹ کی بچت کا اکاؤنٹ، مثلاً 401(k)، 403(b)، 457، IRA یا Roth وغیرہ)، موصی کی جائیداد کا حصہ شمار ہوتا ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد جب موصی اس اکاؤنٹ سے وقفے وقفے سے رقم نکالنا شروع کرے تو یہ رقوم آمد شمار ہوں گی اور ٹیکس کٹوتی کے بعد ملنے والی خالص آمد پر حصہ آمد واجب ہو گا۔
اگر موصی ریٹائرمنٹ اکاؤنٹ سے ساری رقم یکمشت لینے کا فیصلہ کرے تو ٹیکس کے بعد ملنے والی خالص رقم پر حصہ جائیداد ادا کیا جا سکتا ہے۔
اگر موصی کی وفات کے وقت ریٹائرمنٹ اکاؤنٹ میں کوئی رقم باقی ہو تو اکاؤنٹ متعلقہ قوانین اور پلان کے ضوابط کے مطابق ختم کر دیا جاتا ہے۔ ٹیکس کے بعد ورثہ یا وارثوں کو ملنے والی خالص رقم ترکہ شمار ہو گی، جس پر حصہ جائیداد لازم ہے۔
(موصی یہ بھی کر سکتا ہے کہ ریٹائرمنٹ اکاؤنٹ میں موجود رقم کے 10 فیصد — یا اپنی مقررہ شرحِ وصیت کے مطابق حصہ — کے لیے ”احمدیہ موومنٹ اِن اسلام“ کو بطور بینیفشری (beneficiary) نامزد کر دے۔)
- اگر مرحوم موصی نے اپنی زندگی میں انشورنس کے پریمیم اپنی آمد پر حصہ آمد ادا کرنے کے بعد ادا کیے تھے، تو وفات کے بعد ورثاء کو ملنے والی رقم مرحوم موصی کے ترکہ میں شمار نہیں ہو گی اور مرحوم کی طرف سے اس پر حصہ جائیداد لازم نہیں ہو گا۔
- اگر اس بارے میں موصی کا کوئی بیان موجود نہ ہو تو فیصلہ ورثاء کے بیان اور مقامی جماعت کی رپورٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اگر انشورنس کے پریمیم پر پہلے حصہ آمد ادا نہ کیا گیا ہو تو انشورنس کلیم کا صرف وہی حصہ مرحوم موصی کے ترکہ میں شمار ہو گا جس پر چندہ حصہ آمد واجب تھا۔
- انشورنس کمپنی سے بطور منافع ملنے والی کوئی اضافی رقم مرحوم موصی کے ترکہ میں شمار نہیں ہو گی۔
بالکل۔ لائف انشورنس کمپنی سے ملنے والی رقم ہر صورت میں ورثاء کے لیے وراثت شمار ہوتی ہے، اور اگر وہ ورثاء موصی ہوں تو اُن پر اس کا حصہ جائیداد لازم ہے۔
یہ سوال حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش ہوا، جس کا جواب آپٔ نے یوں دیا:
حصہ وصیت کی ادائیگی : ایک صاحب نے سوال کیا کہ اگر ایک شخص جس نے آمدنی کے متعلق وصیت کی ہوئی ہو اپنی آمدنی سے ماہوار حصہ ادا کرتا ہے اور باقی رقم میں سے کوئی جائیداد بناوے تو کیا اس جائیداد میں سے بھی حصہ وصیت ادا کرنا چاہیے ؟
فرمایا: ” ہاں ادا کرنا چاہیے۔ وصیت اصل میں وفات کے بعد جو کچھ ہو اس میں سے ادا ہونی چاہیے۔“
سائل: اس طرح دو دفعہ حصہ وصیت ادا کرنا پڑا، ایک دفعہ ماہوار آمدنی میں سے پھر دوسری دفعہ اسی آمدنی سے جس میں سے حصہ وصیت ادا ہو چکا ہے، جو جائیداد بنائی گئی ہے اس میں سے۔
فرمایا: ”انسان اپنی ٤امدنی سے روپیہ بچا کر جو جائیداد بناتا ہے اگر جائیداد کی بجائے کسی اور کام پر لگائے تو اس طرح جو آمدنی ہوگی اس سے حصہ وصیت ادا کرے گا پھر جب وہ جائیداد پر روپیہ خرچ کرتا ہے تو اس میں سے حصہ کیوں نہ دے یہ تو جائیداد ہے جو پیدا کی گئی۔ اگر کسی شخص کے پاس 10 گماؤں زمین ہو۔ اور وہ ایک گھماؤں وصیت میں دینے کے بعد باقی زمین کی آمدنی سے کچھ روپیہ جمع کرتا ہے جو اس کی وفات کے بعد معلوم ہو تو اس سے بھی حصہ وصیت ادا ہونا چاہیے۔“
(منقول از اخبار الفضل نمبر 45 جلد 7 مورخہ دسمبر 1919)
موصی کی رہائش گاہ کے علاوہ اس کے کسی بھی مکان یا زمین پر حصہ جائیداد کے وہی قواعد لاگو ہوں گے۔ اگر تشخیص موصی کی زندگی میں کی جائے تو جائیداد کی تشخیص اُس وقت کی مناسب مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہو گی۔ جائیداد پر باقی ماندہ مارگیج کا قرض تشخیص شدہ قیمت میں سے منہا نہیں کیا جائے گا۔
چونکہ یہ جائیدادیں موصی کی رہائش گاہ نہیں ہیں، اس لیے موصی کو منظور شدہ تشخیصِ حصہ جائیداد ادا کرنے کے لیے دو سال تک کی مہلت ہو گی۔ ایک بار حصہ جائیداد مکمل ادا ہو جانے کے بعد اُس جائیداد کی قیمت میں آئندہ ہونے والے اضافہ پر مزید حصہ جائیداد واجب نہیں ہو گا۔
اِن جائیداد سے حاصل ہونے والی کرایہ کی آمد پر چندہ عام کی شرح (1/16) کے مطابق حصہ آمد واجب ہو گا۔
گاڑی، دیگر قابلِ صرف اشیاء کی طرح، چندہ وصیت کے لحاظ سے کسی کی جائیداد میں شامل نہیں کی جاتی، سوائے اِن صورتوں کے: جب کسی کے پاس اپنی وصیت کی بنیاد بنانے کے لیے کوئی اور جائیداد نہ ہو اور وہ اپنی خوشی سے اپنی گاڑی اور اسی قسم کی اشیاء پر چندہ حصہ جائیداد ادا کرے؛ یا جب اس کی جائیداد بنیادی طور پر اِنہی اشیاء پر مشتمل ہو؛ یا جب اس کے پاس ایسی قیمتی اشیاء کا ایسا ذخیرہ ہو جسے حقیقتاً اس کی جائیداد قرار دیا جا سکے۔
قواعدِ وصیت میں طریقِ تشخیص کے تحت ضابطہ نمبر 10 میں درج ہے:
”ایسی جائیداد جو کسی نے خود خریدی ہو لیکن کسی قانونی اغراض یا مصلحت کی وجہ سے اس میں کسی اور فرد کا نام بھی داخل کیا ہو تو وہ جائیداد مشترکہ شمار نہ ہوگی بلکہ جس فرد نے وہ جائیداد خریدی اس کی ہی وہ جائیداد شمار ہوگی۔“
- الف) چنانچہ اگر قانونی تقاضوں، مقامی قوانین یا اسی نوعیت کی وجوہات کی بنا پر موصی نے جائیداد کے کاغذات میں اپنے شریکِ حیات یا کسی اور وارث کو مشترکہ مالک کے طور پر شامل کیا ہو، مگر اس فرد نے جائیداد کی خرید، حصول، ترقی یا تعمیر میں کوئی مالی حصہ نہ ڈالا ہو، تو جائیداد صرف اُسی موصی کی ملکیت شمار ہو گی جس نے اس کی رقم ادا کی۔ وہی موصی 100 فیصد مالک شمار ہو گا اور جائیداد کی پوری قیمت پر حصہ جائیداد ادا کرنے کا ذمہ دار ہو گا۔ اگر دوسرا شریکِ حیات بھی موصی ہو مگر اس نے جائیداد میں کوئی مالی حصہ نہ ڈالا ہو تو جائیداد اس کی ملکیت شمار نہیں ہو گی اور نہ ہی اس پر اس کا حصہ جائیداد لازم ہو گا۔
- ب) اگر شریکِ حیات یا کسی اور مشترکہ مالک نے جائیداد کی خرید، حصول، ترقی یا تعمیر میں مالی حصہ ڈالا ہو تو ملکیت ہر فریق کے مالی حصہ کے تناسب سے متعین ہو گی۔
- ج) اگر مشترکہ مالکان میں سے ایک کی وفات ہو جائے اور جائیداد میں اس کا حصہ زندہ شریکِ حیات کو بطور وراثت ملے، اور وہ شریکِ حیات موصی ہو، تو اس پر اِس ورثہ میں ملنے والے حصہ پر مقررہ شرح کے مطابق حصہ جائیداد ادا کرنا لازم ہو گا۔
جی ۔ موصی کی وفات پر مکان کے جو حصے شریکِ حیات اور بچوں کو ورثہ میں ملیں گے وہ اُن کی اپنی جائیداد بن جائیں گے۔ چنانچہ ہر موصی وارث پر اپنے ورثہ میں ملنے والے حصہ پر اپنی مقررہ شرحِ وصیت کے مطابق حصہ جائیداد واجب ہو گا۔
مثلاً اگر زندہ شریکِ حیات کو مکان کا آٹھواں حصہ (1/8) ورثہ میں ملے تو اسے مکان کی تشخیص شدہ مارکیٹ ویلیو کے آٹھویں حصہ پر اپنی مقررہ شرحِ وصیت کے مطابق حصہ جائیداد ادا کرنا ہو گا۔
قواعدِ وصیت میں طریقِ تشخیص کے تحت ضابطہ نمبر 11 میں درج ہے:
”موصی کی ایسی خرید کردہ جائیداد جو کسی اور کے نام لگوائی گئی ہو یا کسی کو ہبہ کی گئی ہو وہ جائیداد بھی موصی ہی کی شمار ہوگی۔“
مزید برآں قواعدِ وصیت کے قاعدہ نمبر 49 میں درج ہے:
”(الف)اگر کوئی موصی اپنی جائیداد غیر منقولہ کا ہبہ بحق وارث یا وارثان ایسے حالات میں کرے گا کہ صورت تقسیم وراثت کی بنتی ہو یا کسی رنگ میں وصیت کی روح مجروح ہونے کا اہتمال ہو تو ایسی صورت میں حصہ جائیداد حسب وصیت ادا کرنا لازم ہوگا اور ایسی جائیداد بصورت وفات موصی کا ترکہ شمار ہوگی۔
(ب)اگر کوئی موصی اپنی ایسی جائیداد منقولہ جس پر وصیت کی ادائیگی ضروری ہو ایسے حالات میں ہبہ بحق وارث یا وارثان کرے گا کہ صورت تقسیم وراثت کی بنتی ہو یا کسی رنگ میں وصیت کی روح مجروح ہونے کا احتمال ہو تو ایسی صورت میں حصہ وصیت ادا کرنا لازم ہوگا۔“
پس موصی پر ایسی جائیداد کا حصہ جائیداد ادا کرنا لازم ہے۔
قواعدِ وصیت میں طریقِ تشخیص کے تحت ضابطہ نمبر 9 میں درج ہے:
”ہر ایسی جائیداد جو مارکج پر خریدی گئی ہو اس پر حصہ جائیداد کی ادائیگی لازمی ہے اس کی ادائیگی کے دو طریقے ہیں۔
اول: اگر وہ زندگی میں اپنی مارگیج والی جائیداد کا حصہ ادا کرنا چاہتا ہے تو اس جائیداد کی باقاعدہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق حسب ضابطہ تشخیص ہوگی اور مارگیج کی رقم منہا نہیں کی جائے گی ۔
دوم: اگر اس کا حصہ جائداد زندگی میں ادا نہ کیا ہو تو باوقت وفات مارگیج کی رقم جو قابل ادا رہتی ہوگی منہا کرنے کے بعد بقیہ رقم پر حصہ جائداد واجب الادا ہوگا۔“
مذکورہ بالا قاعدہ کی روشنی میں مارگیج پر حاصل کی گئی جائیداد کا حصہ جائیداد ادا کرنے کی صرف دو صورتیں ہیں:
- الف) اگر موصی اپنی زندگی میں حصہ جائیداد ادا کرنا چاہے تو جائیداد کی تشخیص موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہو گی اور باقی ماندہ مارگیج منہا نہیں کیا جائے گا، کیونکہ زندگی میں قرض کو شمار نہیں کیا جاتا۔ ایک بار حصہ جائیداد مکمل ادا ہو جانے کے بعد اُس جائیداد کی قیمت میں آئندہ ہونے والے اضافہ پر مزید حصہ جائیداد واجب نہیں ہو گا۔
- ب) اگر موصی اپنی زندگی میں حصہ جائیداد ادا نہ کرے تو اس کی وفات کے بعد ترکہ اس ترتیب سے تقسیم ہو گا: پہلے تمام قرض ادا کیے جائیں گے، پھر وصیت پوری کی جائے گی، اور آخر میں باقی ماندہ ترکہ بطور وراثت تقسیم ہو گا۔ ایسی صورت میں پہلے باقی ماندہ مارگیج جائیداد کی قیمت میں سے منہا کیا جائے گا اور پھر باقی ماندہ قیمت پر حصہ جائیداد شمار کر کے ادا کیا جائے گا — یعنی موصی کی وفات کے وقت جائیداد میں اس کی حقیقی ملکیت (equity) پر۔
جن موصیان نے کسی جائیداد کا حصہ جائیداد ادا کر کے اس کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا ہو، اُن کے لیے:
- اگر وہ اس جائیداد کو فروخت کریں تو فروخت سے حاصل ہونے والی رقم پر نہ حصہ آمد واجب ہے نہ حصہ جائیداد۔
- اگر حصہ جائیداد ادا کرنے کے بعد وہ فروخت کی رقم سے اُسی قیمت کی کوئی اور جائیداد خریدیں تو نئی جائیداد پہلی کا متبادل شمار ہو گی اور اس پر حصہ جائیداد واجب نہ ہو گا۔ البتہ اس تبدیلی کی اطلاع دفتر کو دینا ضروری ہے۔
- اگر نئی جائیداد پہلی جائیداد کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے کم قیمت میں خریدی جائے تو باقی ماندہ رقم یا منافع پر حصہ جائیداد واجب نہ ہو گا (البتہ اگر جائیداد کی خرید و فروخت بطور کاروبار کی جا رہی ہو تو منافع پر حصہ آمد واجب ہو گا)۔
- اگر حصہ جائیداد ادا کرنے کے بعد جائیداد فروخت کر کے اس سے مہنگی جائیداد خریدی جائے تو نئی جائیداد کے حصہ جائیداد میں صرف پہلی جائیداد کی فروخت سے حاصل شدہ رقم شمار ہو گی۔ اگر خریداری میں مزید رقم شامل کی جائے تو اُس اضافی رقم پر حصہ جائیداد واجب ہو گا۔
مذکورہ بالا راہنمائی ہر قسم کی جائیداد پر لاگو ہوتی ہے، بشمول زیورات کے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے قرض پر حاصل کی گئی جائیداد کے بارے میں درج ذیل راہنمائی عطا فرمائی:
”اس ضمن میں اصولی طرز عمل یہ ہے کہ جو شخص زندگی میں اپنی جائیداد کا حصہ وصیت ادا کرنا چاہتا ہے تو اس سے بعض شرائط کے ساتھ منظور کر لیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں نے اپنی جائیداد پر اتنا قرض دینا ہے یہ منہا کر لیا جائے اور بقیہ پر حصہ وصیت کی ادائیگی ہو جائے تو ایسے معاملے میں بعض پچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ان پچیدگیوں سے بچنے کے لیے عام طور پر یہی بہتر ہے کہ جس نے قرض پر جائداد بنائی ہو اس جائیداد کا حصہ وصیت اس کی زندگی میں اسی صورت میں قبول کیا جائے کہ وہ قرض کی ذمہ داری اپنی ذات پر رکھے اور پوری جائیداد کی قیمت پر حصہ وصیت ادا کر کے فارغ ہو جائے۔
اگر وہ قرض کو منہا کر کے حصہ وصیت عطا کرنا چاہے تو منظوری کی صورت میں اس کا مطلب صرف یہ ہوگا کہ یہ حصہ وصیت صرف اس جائیداد کا ہوا ہے جس پر کسی قسم کا قرض نہیں تھا۔ اور جس جائیداد پر قرض ہے اس کا معاملہ وفات کے دن تک ملتوی سمجھا جائے گا۔ یعنی اگر اس وقت تک قرض ادا کر دیا گیا ہو تو جائیداد کے اس حصہ کی وصیت کا مطالبہ وفات کے بعد کیا جائے گا۔ کیونکہ اس نے اپنی زندگی میں قرض کے عذر پر اس حصہ کی وصیت عطا نہ کی تھی۔ اگر کچھ قرض باقی ہو تو پھر اس جائیداد کا تخمینہ کر کے اس میں سے قرض منہا کر لیا جائے اور بقیہ قیمت جائیداد پر وصیت واجب الادا ہوگی۔ یہ اصولی طرز عمل ہے اس کا سب پر اطلاق ہوگا۔"
( خط محررہ جنوری 28 ، ۱۹۹۰)
- الف) جی ۔ موصی اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کی قیمت کی تشخیص کرا کے اسی کے مطابق حصہ جائیداد ادا کر سکتا ہے۔ تشخیص کا آغاز اس فارم کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے: https://www.ahmadiyya.us/members/wasiyyat-portal
- ب) ایسی ادائیگی کی شرح وہی ہو گی جو موصی نے مقرر کی اور مجلسِ کارپرداز نے منظور کی۔ موصی اپنی زندگی میں کسی بھی وقت حصہ آمد، حصہ جائیداد یا دونوں کے لیے شرحِ وصیت مقرر کر سکتا ہے۔
- ج) ہر قسم کی جائیداد کے لیے ایسی ادائیگی کی مدت تشخیص کی تاریخ سے دو سال ہے۔
- د) اگر جائیداد وہ مکان ہو جس میں موصی خود رہائش پذیر ہے تو یہ مدت پانچ سال تک بڑھ جاتی ہے۔
اگر موصی کسی جائیداد کا واحد مالک نہیں تو اسے مالی حصہ کی بنیاد پر متعین ہونے والے اپنے حصہ ملکیت کے مطابق حصہ جائیداد ادا کرنا ہو گا۔ اگر اس کا اس میں کوئی حصہ ہی نہ ہو اور جائیداد درحقیقت کسی اور کی ہو تو اس امر سے مجلسِ کارپرداز کو مطلع کرنا چاہیے۔
جی ۔ موصی امریکہ سے باہر واقع جائیداد کا حصہ جائیداد امریکی ڈالر میں ادا کر سکتا ہے۔ اس کے لیے جائیداد کی منظور شدہ تشخیص شدہ قیمت کو ادائیگی کے وقت کی رائج شرحِ تبادلہ کے مطابق متعلقہ غیر ملکی کرنسی سے امریکی ڈالر میں تبدیل کر لینا چاہیے۔
اس صورت میں، جیسا کہ کسی بھی دوسرے کاروبار میں، حصہ آمد صرف اُس سرمایہ کاری سے حاصل شدہ نفع پر واجب الادا ہوتا ہے، نہ کہ اصل سرمائے پر، بشرطیکہ یہ سرمایہ ایسی بچت سے لیا گیا ہو جس پر حصہ آمد پہلے ہی ادا کیا جا چکا ہو۔
ای ایس پی پی: جب کوئی موصی ای ایس پی پی میں شامل ہوتا ہے تو ہر تنخواہ میں سے ایک مقررہ فیصد کاٹ لیا جاتا ہے اور کمپنی کے پاس جمع رہتا ہے۔ پیشکش کی مدت کے اختتام پر، جو عموماً چھ ماہ ہوتی ہے، اِن جمع شدہ کٹوتیوں سے کمپنی کےشیئرز خریدے جاتے ہیں، اور یہ خریداری عام طور پر بازاری قیمت سے کم رعایتی نرخ پر ہوتی ہے۔
حصہ آمد اُن رقوم پر بھی واجب الادا ہے جو ہر تنخواہ سے کاٹی جاتی ہیں، اور اُس نفع پر بھی جو اِن شیئرز پر حاصل ہو۔ موصی اِسے دو طریقوں میں سے کسی ایک طریقے سے ادا کر سکتا ہے:
- کٹوتی شدہ رقوم پر حصہ آمد اُسی وقت ادا کرے جب وہ کٹوتیاں ہوں، اور پھر شیئرز کی فروخت کے وقت نفع پر ادا کرے؛ یا
- شیئرز کی فروخت کے وقت یکمشت حصہ آمد ادا کرے، جس کا حساب فروخت سے حاصل ہونے والی کل رقم پر ہو۔
آر ایس یوز: آر ایس یوز پر حقِ ملکیت کمپنی کے مقرر کردہ شیڈول کے مطابق حاصل ہوتا ہے، جو عموماً کئی سالوں پر محیط ہوتا ہے۔ جب یہ شیئرز، حقِ ملکیت حاصل ہونے کے بعد، فروخت کیے جائیں تو حصہ آمد اُن سے حاصل ہونے والی کل رقم پر واجب الادا ہوتا ہے۔
نہیں۔ جس قیمت پر حصہ جائیداد واجب ہے اس کی تشخیص ناظم صاحب تشخیصِ جائیداد موصیان مقامی جماعت کے عاملہ کے مشورہ سے کرتے ہیں۔ اس لیے اگر کوئی موصی اپنی کسی جائیداد کا حصہ جائیداد ادا کرنا چاہے تو اسے منظوری کے لیے ناظم صاحب تشخیصِ جائیداد موصیان کو تشخیصی فارم بھجوانا ہو گا۔ اسی عمل سے واجب الادا رقم متعین ہوتی ہے۔
مرکز کا درج ذیل وضاحتی نوٹ تمام اسنادِ وصیت پر درج ہوتا ہے اور اسی امر کی وضاحت کرتا ہے:
وضاحت نمبر 2 — موجودہ جائیداد: اس سے مراد وہ منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ہے جو موصی کی ملکیت ہو اور جسے اس نے مقررہ فارمِ وصیت میں ظاہر کیا ہو اور جس کی قیمت کا اندازہ اس نے خود لگایا ہو۔ حقیقی ادائیگی کے وقت، صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے قواعد و ضوابط کے مطابق، مذکورہ جائیداد کی قیمت کی تشخیص صدر انجمن کی مقرر کردہ تشخیصِ جائیداد کی اتھارٹی مقامی جماعت احمدیہ کے مشورہ سے کرے گی، اور موصی کی طرف سے واجب الادا صحیح رقم کا تعین صدر انجمن کرے گی۔
موصی کی وفات کے وقت اس کی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد اس کا ترکہ شمار ہوتی ہے۔ موصی کا مکان، زمین، زیورات، نقدی، بانڈز، حصص، ریٹائرمنٹ کی بچت اور اسی قسم کی تمام اشیاء اس کے ترکہ کا حصہ ہیں۔ مختصراً، وہ تمام اشیاء جو ورثاء میں تقسیم ہوتی ہیں موصی کا ترکہ شمار ہوتی ہیں۔ البتہ حصہ جائیداد کی ادائیگی کے وقت روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء کو مستثنیٰ رکھا جاتا ہے۔
نہیں۔ اگر موصی نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا حصہ جائیداد ادا کر دیا ہو تو ورثاء پر مرحوم کی طرف سے اُس جائیداد کا حصہ جائیداد دوبارہ ادا کرنا لازم نہیں۔
تاہم جب وہ جائیداد ورثہ میں منتقل ہو جاتی ہے تو وہ متعلقہ ورثاء کی اپنی جائیداد بن جاتی ہے۔ اگر کوئی وارث موصی ہو تو اس پر ورثہ میں ملنے والے اپنے حصہ پر اپنی شرحِ وصیت کے مطابق حصہ جائیداد ادا کرنا لازم ہو گا۔
حصہ جائیداد کی ادائیگی موصی کی وفات کے فوراً بعد لازم ہو جاتی ہے۔ اگر ورثاء فوری ادائیگی سے قاصر ہوں تو مجلسِ کارپرداز دو معتبر ضامن پیش کرنے کی شرط پر تدفین کی خصوصی اجازت دے سکتی ہے۔ ایسی ضمانت زیادہ سے زیادہ ایک سال کے لیے معتبر ہوتی ہے اور اسی مدت میں مکمل ادائیگی کرنا ضروری ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے موصی فارمِ وصیت کی پہلی شق میں یہ اقرار کرتا چلا آ رہا ہے:
”کہ میرے مرنے کے بعد نعش کو بہشتی مقبرہ واقعہ قادیان میں دفن کرنے کے لیے قادیان پہنچایا جائے بشرطیہ کہ مجلس کار پرداز مصالح قبرستان کی طرف سے ایسا کرنے کی مجھے یا میرے بعد میرے ورثا کو اجازت حاصل ہو جائے اور نعش کو قادیان پہنچانے کے اخراجات اگر میں فوت ہونے سے پہلے خزانہ صدر انجمن احمد یا ربوہ میں جمع نہ کر سکا /سکی تو میرے جائیداد متروکہ میں سے وضع کیے جائیں لیکن ایسے اخراجات کا اثر اس حصہ جائیداد پر نہ پڑے گا جو میں اس وصیت کی روح سے صدر انجمن احمدیہ ربوہ کو دیتا/ دیتی ہوں۔“
جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ سے یہ سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”موصیان کو وہی اقرار کرتے رہنا چاہیے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے موصیان کرتے تھے۔ اس میں تبدیلی کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔“
- الف) جی، جو قواعد و ضوابط بہشتی مقبرہ پر لاگو ہوتے ہیں وہی کسی بھی مقبرہ موصیان پر لاگو ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ضوابط میں درج ہے، موصی کا حصہ آمد تدفین سے پہلے ادا ہونا چاہیے، البتہ حصہ جائیداد میں استثنا دیا جا سکتا ہے: اگر موصی کا حصہ جائیداد ادا نہ ہوا ہو تو دو موصیان کی جانب سے اس کی ادائیگی کی ضمانت پر تدفین ہو سکتی ہے۔ موصی کی وفات کے وقت اس کے حصہ آمد اور حصہ جائیداد سے متعلق تمام حسابات حاصل کرنا اور اسی کے مطابق واجبات وصول کرنا ضروری ہے۔
- ب) دوسرے ممالک میں موصیان کے قبرستانوں کو بہشتی مقبرہ کا نام نہیں دیا جا سکتا؛ اُنہیں مقبرہ موصیان کہا جاتا ہے۔
- ج) مقبرہ موصیان کے اُمور چلانے والی کمیٹی کے صدر امیر جماعت ہوتے ہیں اور نیشنل سیکرٹری وصایا اس کے سیکرٹری ہوتے ہیں۔ نیشنل فنانس سیکرٹری اور مبلغ انچارج بھی اس کے ممبر ہوتے ہیں۔ کمیٹی کے کل ممبران پانچ سے سات ہونے چاہئیں اور کورم تین کا ہو۔ یہ کمیٹی اپنے ملک کے اراکین کو وصیت کرنے کی مسلسل تحریک کرتی ہے اور موصیان کی تدفین اور مقبرہ موصیان سے متعلق اُمور کی بھی ذمہ دار ہوتی ہے۔
تاجر حضرات اپنی کل خالص آمد پر چندہ ادا کریں گے، یعنی مجموعی آمد میں سے وہ اخراجات منہا کرنے کے بعد جو اس آمد کے حصول کے لیے ضروری تھے۔ صرف اُس رقم پر چندہ حصہ آمد ادا کرنا درست نہیں جو کاروبار میں سے ماہانہ اخراجات کے لیے نکالی جاتی ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اس بارے میں اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مارچ 1986ء میں یہ راہنمائی عطا فرمائی:
"تاجر یہ حرکت کرتے ہیں کہ اپنے سارے اخراجات تجارتی کمپنیوں پر ڈال دیتے ہیں اس سے ٹیکس بھی بچتا ہے اور وصیت بھی بچ جاتی ہے۔ اور اپنے نام ایک سرسری سی رقم رکھ لیتے ہیں کہ ہم مہینہ میں پانچ سو روپے گھر لے کر گئے تھے اور وصیت پانچ سو روپے پر۔ لکھ پتی ہیں، ہزار ہا روپیہ ان کا ہفتہ کا خرچ ہو رہا ہوتا ہے، اولادیں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہوتی ہیں، ہر قسم کی نعمتیں حاصل ہیں مگر سب کے سب یا اکثر حصہ وہ کسی نہ کسی کمپنی کے نام کے اوپر کسی حساب میں وصول کیا جا رہا ہوتا ہے۔ حالانکہ امرِ واقعہ یہ ہے کہ چاہے ڈائریکٹر کے نام دو لکھ دو یا بچوں کے نام پر جو چاہو کر و، کمانے والے کی اپنی کمائی ہے۔ اللہ کو علم ہے کہ کس کی کمائی ہے اور وہ اگر دنیا کے قوانین سے استفادہ کی خاطر یہ حرکتیں کرتا ہے تو بعض دفعہ دنیا کا قانون اجازت بھی دیتا ہے لیکن خدا کے قانون کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا، وہ دنیا کے قانون کے تابع نہیں ہے، وہ الگ معاملہ کرے گا۔"
موصی چندہ وصیت اُسی شرح سے ادا کرے گا جس کا اس نے اپنی وصیت میں عہد کیا ہے، نہ کہ چندہ عام کی شرح سے۔ موصی کی زندگی میں وصیت صرف کاروبار سے حاصل ہونے والی آمد پر ادا کی جاتی ہے۔ خالص اثاثہ جات — یعنی کاروبار کے کل اثاثہ جات منہا کل واجبات — پر ادائیگی وفات کے بعد ہوتی ہے، یا موصی چاہے تو اپنی زندگی میں بھی کر سکتا ہے۔ کاروباری سرمایہ (working capital) پر کوئی چندہ نہیں۔
کسی بھی قسم کے کاروبار میں — خواہ وہ فیکٹری ہو، مل ہو یا تعمیراتی کمپنی — صرف وہی حصہ موصی کی جائیداد شمار ہو گا جو حقیقتاً اس کا ہے۔ مثلاً اگر کمپنی کے تمام اثاثہ جات (بشمول مستقل اثاثہ جات، واجب الوصول رقوم اور بینک بیلنس) کی کل قیمت ایک کروڑ ہو، جس میں سے 60 لاکھ بینکوں اور دیگر قرض خواہوں کا ہو، تو موصی کا حصہ 40 لاکھ بنے گا۔ یہی رقم موصی کی جائیداد شمار ہو گی اور اسی پر وہ حصہ جائیداد ادا کرے گا۔ بالفاظِ دیگر جائیداد کی کل قیمت میں سے اس کے واجبات منہا کرنے کے بعد جو رقم بچے وہی موصی کا وہ حصہ ہے جس پر حصہ جائیداد ادا کیا جاتا ہے۔
کاروبار پر حصہ جائیداد موصی کی وفات کے بعد ادا کرنا ہوتا ہے۔ اگر موصی اسے اپنی زندگی میں ادا کرنا چاہے تو کاروبار کی کل قیمت کی تشخیص کی جاتی ہے، کاروبار کے تمام واجبات منہا کیے جاتے ہیں اور باقی ماندہ رقم پر حصہ جائیداد واجب ہوتا ہے۔
کاروبار کی خالص مالیت پر حصہ جائیداد عموماً موصی کی وفات کے وقت ادا کیا جاتا ہے۔ چونکہ کاروبار کی قیمت وقت کے ساتھ گھٹتی بڑھتی رہتی ہے، اس لیے عموماً اُسی مرحلہ پر اس کی قیمت کا تعین زیادہ مناسب ہوتا ہے۔
تاہم اگر کوئی موصی یہ ذمہ داری اپنی زندگی میں پوری کرنا چاہے تو کاروبار کی قیمت کی تشخیص کی جاتی ہے اور اس کی تشخیص شدہ خالص مالیت کی بنیاد پر حصہ جائیداد ادا کیا جا سکتا ہے۔
البتہ یاد رہے کہ حصہ جائیداد کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لینے سے یہ ذمہ داری ہمیشہ کے لیے ختم نہیں ہو جاتی اگر بعد میں کاروبار کی قیمت بڑھ جائے۔ اگر تشخیص اور ادائیگیِ حصہ جائیداد کے بعد کاروبار کی قیمت میں اضافہ ہو جائے تو موصی اس اضافہ شدہ خالص مالیت پر حصہ جائیداد ادا کرنے کا ذمہ دار رہے گا۔
کاروبار کی قیمت میں اضافہ منافع میں سے (جس پر حصہ آمد پہلے ادا ہو چکا ہو) دوبارہ سرمایہ کاری کرنے سے ہو سکتا ہے، یا باہر سے مزید سرمایہ شامل کرنے سے۔ اس کی مثال یوں ہے جیسے کوئی موصی اپنی ذاتی بچت سے (جس پر حصہ آمد پہلے ادا ہو چکا ہے) اپنے مکان میں کوئی اضافی تعمیر کرائے۔ اگرچہ اس بچت پر حصہ آمد ادا ہو چکا ہے، مگر نئی بننے والی جائیداد پر حصہ جائیداد کی نئی ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے۔ یہی اصول کاروبار کی قیمت میں اضافہ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
چنانچہ اگر کسی کاروبار پر حصہ جائیداد ادا کیا جا چکا ہو اور سرٹیفکیٹ بھی جاری ہو چکا ہو، مگر بعد کی تشخیص سے معلوم ہو کہ کاروبار کی قیمت پہلی تشخیص میں شامل رقم سے بڑھ چکی ہے، تو اس زائد قیمت پر حصہ جائیداد واجب ہو گا۔
آپ جماعت کو ایسے بینیفشری (وارث) کے طور پر نامزد کریں جسے سب سے پہلے ادائیگی کی جائے — یعنی آپ کے قرضوں (مارگیج، حقوقِ رہن، طبی اخراجات، تجہیز و تکفین کے اخراجات وغیرہ) کی ادائیگی کے بعد جو اثاثے باقی بچیں اُن میں سے آپ کی منظور شدہ شرحِ وصیت (1/10 سے 1/3) کے مطابق حصہ۔
قواعدِ وصیت میں سے قاعدہ ۶۹ کے مطابق:
"ہر موصی کے لیے لازم ہوگا کہ ہر مالی سال کے اختتام پر اپنی حصہ آمد کی ادائیگیوں کے پیش نظر ایک اقرار نامہ حسب نمونہ جدول "ج" دفتر وصیت کو بھجوائے۔ ایسا اقرار نہ آنے کی صورت میں صدر انجمن احمدیہ کو اختیار ہوگا کہ مناسب تنبیہہ کے بعد موصی کو بقایا دار قرار دے کر موصی کے خلاف مناسب تادیبی کارروائی کرے جو منسوخی وصیت بھی ہو سکتی ہے۔"
حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۵ جولائی ۲۰۱۶ء میں موصیان کو اپنے چندہ وصیت حصہ آمد کے حسابات اپ ٹو ڈیٹ رکھنے کی طرف ان الفاظ میں توجہ دلائی:
"موصیان کو پہلی بات تو یہ یاد رکھنی چاہئے کہ اپنے چندے کی باقاعدہ ادائیگی اور اس کا حساب رکھنا ہر موصی کی اپنی ذمہ داری ہے۔ لیکن مرکزی دفتر اور متعلقہ سیکرٹریان کا بھی کام ہے کہ ہر موصی کا حساب مکمل رکھیں اور جب ضرورت ہو انہیں یاد دہانی بھی کروائیں کہ ان کے چندے کی کیا صورتحال ہے"
تاہم مرکزی دفتر اور متعلقہ سیکرٹریان صاحبان کو بھی ہر موصی کے حصہ آمد کا حساب رکھنا چاہیے اور ضرورت کے وقت انہیں اُن کے چندہ کی صورتحال سے آگاہ کرنا اور یاد دہانی کرانی چاہیے۔"
جدول ج پورٹل کا لنک
https://www.ahmadiyya.us/members/wasiyyat-portal/schedule-c-link.php
مرکز کے مطابق آپ کا جدول ج کلیئرنس سال وہ آخری مسلسل (بلا تعطل) مالی سال ہے جس تک آپ نے کوئی سابقہ سال چھوڑے بغیر جدول ج جمع کرایا ہو۔
مثال:
فرض کریں آپ نے مالی سال ۲۰۲۰ء–۲۰۲۱ء تک باقاعدگی سے جدول ج فارم جمع کرائے۔ پھر آپ نے ۲۰۲۱ء–۲۰۲۲ء اور ۲۰۲۲ء–۲۰۲۳ء کے سال چھوڑ دیے، لیکن بعد میں مالی سال ۲۰۲۳ء–۲۰۲۴ء اور مالی سال ۲۰۲۴ء–۲۰۲۵ء کے فارم جمع کرا دیے۔ تازہ ترین فارم جمع کرانے کے باوجود، درمیان کے چھوٹے ہوئے سالوں کی وجہ سے آپ کا کلیئرنس سال مالی سال ۲۰۲۰ء–۲۰۲۱ء ہی رہے گا۔
نہیں۔ بجٹ اور جدول ج دو الگ الگ اور خودمختار گوشوارے ہیں۔ چندہ جات کے بجٹ سال کے آغاز میں جمع کرائے جاتے ہیں، جبکہ جدول ج سال کے اختتام پر، یعنی ۳۰ جون کو مالی سال ختم ہونے کے بعد جمع کرایا جاتا ہے۔
چندہ بجٹ اُس متوقع آمدنی یا چندہ کا تخمینہ ہوتا ہے جو آپ مالی سال کے دوران ادا کریں گے۔ جدول ج کا اعلامیہ سال کے دوران حاصل ہونے والی اصل خالص آمدنی (ٹیک ہوم انکم) اور اُس پر ۱/۱۰ سے ۱/۳ کی شرح سے ادا کیے گئے چندہ کو ظاہر کرتا ہے۔
جدول ج کے اعلامیہ میں درج "واجب الادا چندہ" چندہ بجٹ نہیں ہے۔
بجٹ کے گوشوارے کا جدول ج کے اعلامیہ سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے۔
اگر کوئی موصی سال کے دوران، سال کے آغاز میں جمع کرائے گئے بجٹ سے زیادہ کماتا ہے تو تقویٰ کو مدِنظر رکھتے ہوئے اُسے اِس اضافی آمدنی پر بھی چندہ حصہ آمد ادا کرنا چاہیے، اور اسے جدول ج کے اعلامیہ میں زائد ادائیگی کے طور پر ظاہر نہیں کرنا چاہیے۔
جہاں کسی موصی نے اپنی اصل آمدنی پر چندہ ادا کیا ہو — خواہ وہ بجٹ شدہ رقم سے زیادہ ہو یا کم — وہاں جدول ج کے اعلامیہ میں آپشن ۱ کا انتخاب کیا جانا چاہیے، جو یہ ہے:
"میں نے مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی کل آمدنی کی بنیاد پر اپنا واجب الادا چندہ مکمل طور پر ادا کر دیا ہے، اور کوئی بقایا جات یا زائد رقم باقی نہیں۔"
جدول ج کے اعلامیہ میں ظاہر ہونے والا واجب الادا چندہ بجٹ نہیں ہے۔ بلکہ یہ وہ رقم ہے جو مالی سال کے دوران آپ کی اصل خالص آمدنی کی بنیاد پر ادا کی جانی چاہیے تھی۔
بجٹ متوقع آمدنی پر مبنی ایک تخمینہ ہے، جبکہ جدول ج کا اعلامیہ حاصل شدہ اصل آمدنی پر مبنی ہوتا ہے۔
- اگر آپ کی اصل آمدنی آپ کی متوقع (بجٹ شدہ) آمدنی کے برابر ہو، تو جدول ج میں واجب الادا چندہ اُسی رقم کے مطابق ہو گا جو بجٹ سے شمار کی گئی تھی۔
- اگر آپ کی اصل آمدنی آپ کی متوقع آمدنی سے زیادہ یا کم رہی ہو، تو واجب الادا چندہ مالی سال کے دوران حاصل شدہ اصل آمدنی کی بنیاد پر شمار کیا جانا چاہیے اور یہ بجٹ سے مختلف ہو سکتا ہے۔
موصی کو آپشن (اے) کا انتخاب کرنا چاہیے، جس میں یہ تصدیق ہوتی ہے کہ اُس نے مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی کل آمدنی کی بنیاد پر اپنا واجب الادا چندہ مکمل طور پر ادا کر دیا ہے اور کوئی بقایا جات یا زائد رقم باقی نہیں۔
آپشن (بی) کا انتخاب درست نہ ہو گا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ادائیگیوں میں ایک ایسی اضافی رقم شامل ہے جو جان بوجھ کر ادا کی گئی ہو۔ اگرچہ موصی کو ابتدائی طور پر بجٹ کی گئی رقم سے زائد آمدنی حاصل ہوئی، لیکن جدول ج پر اعلامیہ بجٹ شدہ آمدنی کے بجائے اصل حاصل شدہ آمدنی پر مبنی ہونا چاہیے۔ چنانچہ آمدنی میں اضافے کے نتیجے میں ادا کیا گیا کوئی بھی اضافی چندہ موصی کے معمول کے چندہ کی ذمہ داری ہی کا حصہ ہے اور اسے کوئی زائد رضاکارانہ ادائیگی نہیں سمجھنا چاہیے۔
براہِ کرم نوٹ فرمائیں کہ سال کے آغاز میں جمع کرایا گیا بجٹ محض ایک متوقع تخمینہ ہے اور اس کا جدول ج کے اعلامیہ سے کوئی تعلق نہیں۔ جدول ج فارم میں "واجب الادا چندہ" کا خانہ بجٹ شدہ رقم نہیں ہے — یہ رکن کی اصل آمدنی اور اس کے مطابق چندہ کی ذمہ داری کو ظاہر کرتا ہے۔
اگر کسی رکن نے اپنی اصل (اور ممکنہ طور پر کم شدہ) آمدنی کے مطابق ادائیگی کی ہے، تو واجب الادا چندہ اور کل ادائیگی کی رقم ایک ہی ہو گی، قطع نظر اس کے کہ اصل بجٹ شدہ رقم زیادہ تھی۔ ایسی صورت میں موصی کو آپشن (اے) کا انتخاب کرنا چاہیے، جس میں یہ تصدیق ہوتی ہے کہ اُس نے مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی کل آمدنی کی بنیاد پر اپنا واجب الادا چندہ مکمل طور پر ادا کر دیا ہے اور کوئی بقایا جات یا زائد رقم باقی نہیں۔
موصی کو اپنے سیکرٹری مال کو بھی مطلع کرنا چاہیے تاکہ وہ اُس کا جماعتی بجٹ درست کر دیں اور فنانس سسٹم میں کوئی بقایا جات ظاہر نہ ہوں۔
جی ۔ اگر کسی موصی کا واجب الادا چندہ اُس کی کی گئی ادائیگی سے زیادہ ہو تو بقایا جات پیدا ہوں گے۔ تاہم اگر موصی کے پاس گزشتہ سالوں سے منتقل شدہ زائد رقم موجود ہو، تو مرکز خود بخود اُن بقایا جات کو اُس رقم میں سے درتگی کر دے گا۔ موصی کو کوئی کارروائی کرنے کی ضرورت نہیں۔
جی ۔ اِس صورت میں موصی کو نیشنل شعبہ وصایا امریکہ کو تحریری طور پر لکھنا ہو گا کہ وہ اپنی زائد رقم حصہ آمد سے حصہ جائیداد میں منتقل کرانا چاہتا ہے۔ نیشنل شعبہ وصایا، نیشنل شعبہ فنانس کے تعاون سے مطلوبہ رقم حصہ جائیداد میں منتقل کر دے گیں اور مرکز کو مطلع کر دے گیں۔
کسی سال میں حصہ آمد کی کوئی ادائیگی نہ کرنا، خواہ طالب علم ہی کیوں نہ ہو، وصیت کی روح کے منافی ہے، جس کی بنیاد غیر معمولی مالی قربانی پر ہے۔ مرکز کی طرف سے جماعت امریکہ کے لیے مقرر کردہ آمدنی کا کم از کم معیار (جسے غیر کمانے والے اراکین، بشمول خواتینِ خانہ، کے لیے "جیب خرچ" بھی کہا جاتا ہے) ۲۵۰ ڈالر (دو سو پچاس ڈالر) ماہانہ ہے۔ اگرچہ یہ کم از کم حد طلبہ پر لاگو نہیں ہوتی، تاہم اُنہیں اپنے ملنے والے جیب خرچ میں سے چندہ ادا کرنا ضروری ہے۔ چونکہ ہر طالب علم ہر ماہ بنیادی ضروریات پر خرچ کرتا ہے، اِس لیے ضروری ہے کہ چندہ وصیت اُسی کے مطابق ادا کیا جائے۔
اِسی طرح طلبہ کے لیے بھی جدول ج جمع کرانا لازمی ہے، اور اُنہیں اُس سال کا واجب الادا چندہ (جو صفر نہ ہو) اور ادا شدہ رقم، دونوں ظاہر کرنے ہوں گے۔
مالی سال ۲۰۰۹ء–۲۰۱۰ء سے مرکز کی طرف سے جماعت امریکہ کے لیے مقرر کردہ آمدنی کا کم از کم معیار — جسے غیر کمانے والے اراکین، بشمول خواتینِ خانہ، کے لیے "جیب خرچ" بھی کہا جاتا ہے — ۲۵۰ ڈالر (دو سو پچاس ڈالر) ماہانہ ہے۔ وصیت کی معیاری شرح ۱/۱۰ کے حساب سے یہ کم از کم ۲۵ ڈالر ماہانہ، یعنی ۳۰۰ ڈالر سالانہ چندہ حصہ آمد بنتا ہے۔
جہاں کسی موصی نے اِس سے زیادہ شرحِ وصیت کا عہد کیا ہو، وہاں کم از کم رقم اُسی ۲۵۰ ڈالر ماہانہ جیب خرچ پر اُس شرح کے مطابق شمار کی جائے گی۔ مثلاً ۱/۵ کی شرح والے موصی پر کم از کم ۵۰ ڈالر ماہانہ، یعنی ۶۰۰ ڈالر سالانہ واجب ہوں گے۔
اِس قاعدہ سے صرف تین استثنائیں ہیں:
۱۔ طلبہ اپنی استطاعت کے مطابق اور اپنی جماعت سے مشورہ کر کے سالانہ کم از کم رقم سے کم ادا کر سکتے ہیں۔ اُنہیں مرحلہ ۴ میں "ذرائعِ آمدن" کے تحت "طالب علم" کا آپشن منتخب کرنا ہو گا۔
۲۔ ایسے نئے غیر کمانے والے موصیان جن کی وصیت کی مؤثر تاریخ مالی سال کے آغاز، یعنی یکم جولائی، کے بعد آتی ہو، کیونکہ اُن کا پہلا سال نامکمل ہوتا ہے۔ ایسے موصیان مؤثر تاریخ سے مالی سال کے اختتام ۳۰ جون تک باقی رہ جانے والے مہینوں کے حساب سے سالانہ کم از کم رقم کا متناسب حصہ ادا کریں گے۔ مؤثر تاریخ یا تو درخواست کی تاریخ ہوتی ہے یا منظوری کی تاریخ، اُس آپشن کے مطابق جو موصی نے اپنی درخواستِ وصیت میں منتخب کیا تھا۔
۳۔ ایسے غیر کمانے والے موصیان جو مالی سال کے دوران ہجرت کر کے امریکہ آئے اور جنہوں نے اپنے ملکِ اصل اور امریکہ، دونوں جگہ جزوی ادائیگیاں کیں۔ ایسے موصیان مالی سال کے اُن مہینوں کے حساب سے سالانہ کم از کم رقم کا متناسب حصہ ادا کریں گے جو اُنہوں نے امریکہ میں گزارے، اور اپنے ملکِ اصل میں کی گئی ادائیگیاں الگ سے ظاہر کریں گے۔
باقی تمام غیر کمانے والے، غیر طالب علم موصیان پر لازم ہے کہ وہ اپنی شرحِ وصیت کے مطابق کم از کم سالانہ رقم — یعنی ۱/۱۰ کی شرح پر ۳۰۰ ڈالر — ادا کریں اور اُسی کے مطابق اعلان کریں۔
۱۔ بقایا جات کو چندہ پورٹل پر حصہ آمد کے طور پر ادا کریں:
https://chanda.ahmadiyya.us/previous-year
یہ ایک لازمی مرحلہ ہے۔
۲۔ جس مالی سال میں بقایا جات کی ادائیگی کی گئی، اُس سال کے جدول ج اعلامیہ میں آپشن (۲) منتخب کریں: "مندرجہ بالا ادائیگیوں میں ایک اضافی رقم شامل ہے، جو میرے گزشتہ بقایا جات کی ادائیگی ہے یا جو میں نے جان بوجھ کر ادا کی ہے۔" پھر "اضافی رقم" کی مقدار درج کریں اور بتائیں کہ یہ اضافی رقم "میرے گزشتہ بقایا جات کی ادائیگی" تھی۔
براہِ کرم نوٹ فرمائیں کہ محض بقایا جات ادا کر دینا — یا بقایا جات ادا کر کے رسید دفترِ وصایا کو بھیج دینا — بقایا جات کی کلیئرنس کے لیے کافی نہیں ہے۔
مرکز بقایا جات کی کلیئرنس صرف اُسی صورت میں جاری کر سکتا ہے جب اضافی ادائیگی کا اعلان متعلقہ جدول ج میں گزشتہ سال کے بقایا جات کی ادائیگی کے طور پر باقاعدہ طور پر کیا گیا ہو۔
یہ مسئلہ اِس لیے پیدا ہوتا ہے کہ بقایا جات کی زائد ادائیگی کا اعلان گزشتہ جدول ج گوشواروں میں باقاعدہ طور پر نہیں کیا گیا۔ اِس کی درستی کے لیے دوبارہ گوشوارہ جمع کرانا ضروری ہے۔
شعبہ وصایا سے wasiyyat.helpdesk@ahmadiyya.us پر رابطہ کریں تاکہ اِس بات کی تصدیق ہو سکے کہ کن مالی سالوں کے گوشوارے غلط جمع کرائے گئے تھے۔ اِس کے بعد شعبہ وصایا آپ کو غلط جمع کرائے گئے سال کا جدول ج فارم دوبارہ جمع کرانے کے لیے ایک لنک بھیجے گا۔
اگر کسی موصی نے اُس ملک میں بھی چندہ ادا کیا جہاں سے وہ منتقل ہوا اور امریکہ میں بھی، تو اُس پر لازم ہے کہ وہ اُس سال کے لیے دو جدول ج فارم جمع کرائے: ایک اپنے ملکِ اصل میں، جس میں وہاں کے فنانس اسٹیٹمنٹ کے مطابق چندہ ظاہر ہو، اور دوسرا امریکہ میں، جس میں امریکی فنانس اسٹیٹمنٹ کے مطابق چندہ ظاہر ہو۔
نہیں۔ پاکستان کا حساب امریکہ کے حساب سے بالکل الگ ہے۔ پاکستان میں کی گئی ادائیگیاں جدول ج فارم کے ذریعے صدر انجمن کو رپورٹ کی جاتی ہیں۔ امریکہ میں ۳۰۰ ڈالر کا کم از کم حصہ آمد پھر بھی لازم ہے، جو امریکہ میں غیر کمانے والے موصیان کے لیے مجلس کارپرداز کے مقرر کردہ کم از کم معیارِ قربانی کی بنیاد پر ہے، اور اُسے امریکہ میں جدول ج فارم کے ذریعے وکالتِ مال ثانی، تحریکِ جدید میں ظاہر کرنا ہو گا۔
آپ کی تلاش سے کوئی سوال میل نہیں کھاتا۔ کوئی اور لفظ آزمائیں۔