اکثر پوچھے جانے والے سوالات
وصیت کی ذمہ داریوں، ادائیگیوں اور طریقِ کار کے بارے میں جوابات تلاش کریں۔
چندہ شرطِ اوّل وہ یک مشت چندہ ہے جو درخواست گزار وصیت کی پہلی شرط کے تحت ادا کرتا ہے، اور جس کا حکم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ الوصیت میں دیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں اس چندہ کی غرض یہ ہے:
”پس پہلی شرط یہ ہے کہ جو شخص اس مقبرہ میں دفن ہونا چاہے وہ اپنی حسبِ توفیق اس کے انتظام و دیکھ بھال کے اخراجات میں حصہ لے۔“
الوصیت
بنیادی اصول یہ ہے کہ وصیت کا خواہش مند اپنی توفیق کے مطابق یہ چندہ ادا کرے تاکہ مقبرہ کے انتظام اور دیکھ بھال کی ضروریات پوری ہو سکیں۔ اس لیے وصیت کے خواہش مند کو یہ چندہ اپنی آمد، اپنے اثاثہ جات اور مقبرہ موصیان کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ادا کرنا چاہیے۔
قواعدِ وصیت کے قاعدہ نمبر 28 کے مطابق:
”وصیت کے خواہش مند پر لازم ہو گا کہ وہ رقمِ وصیت کے علاوہ اپنی مالی حیثیت کے مطابق بہشتی مقبرہ، اس کے باغ، راستے کی دیکھ بھال اور دیگر متفرق اخراجات کے لیے بھی چندہ ادا کرے۔ یہ چندہ چندہ شرطِ اوّل کہلاتا ہے۔“
الوصیت، شرط نمبر 1
چندہ اعلانِ وصیت وہ یک مشت چندہ ہے جو درخواست گزار جماعتی اخبارات و رسائل میں اپنی وصیت کے اعلان کی اشاعت کے لیے ادا کرتا ہے۔ اس کی کوئی مقررہ رقم نہیں؛ درخواست گزار اپنے حالات کے مطابق جو رقم چاہے ادا کر سکتا ہے۔
قواعدِ وصیت کے قاعدہ نمبر 29 کے مطابق:
”چندہ شرطِ اوّل (قاعدہ 28) کی ادائیگی کے علاوہ وصیت کے خواہش مند کو وصیت کرتے وقت اپنی وصیت کے اعلان کی اشاعت سے متعلق اخراجات بھی ادا کرنے ہوں گے۔“
الوصیت، ہدایت نمبر 1؛ ضمیمہ الوصیت، شق نمبر 2
جس درخواست گزار کی کوئی باقاعدہ آمد نہ ہو وہ اپنی اندازاً ماہانہ آمد لکھ سکتا ہے، یا گزشتہ چھ ماہ یا ایک سال کی اوسط آمد درج کر سکتا ہے۔
چندہ وصیت کی کم سے کم شرح 1/10 اور زیادہ سے زیادہ 1/3 ہے۔ ایک موصی حصہ جائیداد اور حصہ آمد کے لیے الگ الگ شرحیں مقرر کر سکتا ہے۔ وصیت کے فارم میں حصہ جائیداد کی شرح پہلے صفحہ پر جائیداد کے اندراج والے حصہ میں، اور حصہ آمد کی شرح دوسرے صفحہ پر آمد کے اندراج والے حصہ میں درج کی جاتی ہے۔
موصی اپنی زندگی میں کسی بھی وقت اپنی شرحِ وصیت تبدیل کر سکتا ہے — خواہ صرف حصہ جائیداد کی، خواہ صرف حصہ آمد کی، یا دونوں کی۔
درخواست گزار کو درج ذیل ظاہر کرنا ہوں گی:
* رہائشی و تجارتی جائیداد (خواہ اس پر مارگیج/قرض ہو)
* زمین
* زیورات
* اسٹاکس، بانڈز اور ای ٹی ایفز (ETFs)
* 401(k) اور IRA اکاؤنٹس
* کاروباری سرمایہ کاری
* نقد بچت
* سیونگ اکاؤنٹ میں موجود رقم
* حق مہر
* دیگر اثاثہ جات
جی ہاں۔ قرض یا مارگیج پر حاصل کی گئی جائیداد موصی ہی کی جائیداد شمار ہوتی ہے، اس لیے اسے وصیت کے فارم میں اس کی تخمینی مارکیٹ ویلیو اور پتہ کے ساتھ ظاہر کرنا ضروری ہے۔ اگر موصی آئندہ اسی نوعیت کی کوئی جائیداد حاصل کرے تو اس کی اطلاع بھی مرکز کو دینا اس پر لازم ہے۔
جی ہاں۔ شادی شدہ خاتون کی وصیت پر، اگر اس کا خاوند حیات ہو، تو اس کے دستخط ضروری ہیں۔ حق مہر خاتون کے اثاثہ جات کا حصہ شمار ہوتا ہے، اس لیے اسے وصیت میں درج کرنا چاہیے اور ساتھ یہ بھی لکھنا چاہیے کہ وہ وصول ہو چکا ہے یا ابھی واجب الادا ہے۔ خاوند کی ماہانہ آمد بھی درج کرنا ضروری ہے، اور اگر وہ موصی ہو تو اس کا نمبرِ وصیت بھی۔
جو احمدی سنِ بلوغت (عموماً 15 سال) کو پہنچ چکا ہو وہ وصیت کرنے کا اہل ہے۔ تاہم جہاں ملکی قانون کے مطابق بلوغت کی عمر شریعت کی مقرر کردہ عمر سے مختلف ہو، وہاں درخواست گزار کے قانونی طور پر بالغ ہونے پر وصیت کی تجدید کرنا ضروری ہے۔ (قاعدہ وصیت نمبر 20)
وصیت کیوں ضروری ہے اور کس عمر میں نظامِ وصیت میں شامل ہوا جا سکتا ہے؟ یہاں ملاحظہ فرمائیں۔
نظامِ وصیت میں کس عمر میں شامل ہوا جا سکتا ہے؟ یہاں ملاحظہ فرمائیں۔
اگر درخواست گزار طالبِ علم ہے تو وہ ہر ماہ ملنے والے جیب خرچ پر حصہ آمد ادا کرے گا۔ وظائف (stipends) چندہ سے مستثنیٰ ہیں۔
اگر درخواست گزار طالبِ علم نہیں ہے اور اس کا کوئی ذاتی ذریعہ آمد نہیں (مثلاً غیر کمانے والی خاتونِ خانہ)، تو اسے اپنے معیارِ زندگی کے مطابق ایک رقم مقرر کرنی چاہیے جسے جیب خرچ شمار کیا جائے، اور اسی کے مطابق چندہ حصہ آمد ادا کرنا چاہیے۔ جماعت احمدیہ امریکہ کے لیے مرکز کی جانب سے مقرر کردہ کم سے کم معیارِ آمد (جسے غیر کمانے والے اراکین، بشمول خواتینِ خانہ، کے لیے ”جیب خرچ“ بھی کہا جاتا ہے) 250 ڈالر ماہانہ ہے۔ اس آمد کی بنیاد پر 1/10 کی شرحِ وصیت کے مطابق واجب الادا چندہ حصہ آمد 25 ڈالر ماہانہ بنتا ہے۔ یہ قاعدہ طلبہ پر لاگو نہیں ہوتا۔
جی ہاں۔ طلبہ کم از کم 15 سال کی عمر سے نظامِ وصیت میں شامل ہو سکتے ہیں۔ وہ اپنے جیب خرچ پر حصہ آمد ادا کریں گے۔ غیر کمانے والے موصیان کے لیے مرکز کی مقرر کردہ 250 ڈالر کی کم سے کم آمد طلبہ پر لاگو نہیں ہوتی، اور طلبہ کو ملنے والے وظائف بھی چندہ وصیت سے مستثنیٰ ہیں۔
کیا طلبہ کو نظامِ وصیت میں شامل ہونا چاہیے؟ یہاں ملاحظہ فرمائیں۔
اگر کسی شخص نے کبھی حضرت خلیفۃ المسیح سے چندہ عام میں معافی کی درخواست کی ہو اور بعد میں دوبارہ باقاعدگی سے چندہ عام ادا کرنے لگا ہو تو وہ وصیت کر سکتا ہے۔ تاہم درج ذیل قواعد لاگو ہوں گے:
1. جس شخص نے کم شرح پر چندہ عام ادا کرنے کی اجازت حاصل کی ہو، اسے وصیت کی درخواست دینے سے پہلے کم از کم ایک سال پوری شرح پر چندہ ادا کرنا ہو گا۔
2. جس شخص نے گزشتہ سالوں میں چندہ عام سے مکمل استثنا حاصل کیا ہو، اسے وصیت کی درخواست دینے سے پہلے کم از کم دو سال پوری شرح پر چندہ ادا کرنا ہو گا۔
اگر وصیت کا خواہش مند آمد اور جائیداد سمیت تمام شرائط پوری کرتا ہے تو اسے وصیت کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ قرض وصیت کی راہ میں رکاوٹ نہیں، کیونکہ زندگی میں قرض کو شمار نہیں کیا جاتا۔
تاہم مقروض شخص کے حالات کو مدِنظر رکھنا ضروری ہے۔ اگر اس نے قرض لے کر کوئی جائیداد بنائی ہے اور اس سے آمد ہو رہی ہے، یا قرض لے کر کاروبار شروع کیا ہے اور اس سے نفع کما رہا ہے، تو وہ وصیت کر سکتا ہے۔ لیکن اگر کسی رکن کا نہ کوئی ذریعہ آمد ہو، نہ کوئی جائیداد، اور وہ مستقل طور پر گزر بسر کے لیے قرض پر انحصار کرتا ہو، تو اس پر وصیت کرنا لازم نہیں۔
ہر موصی نظامِ جماعت کے تحت کی گئی وصیت کا مکمل طور پر پابند ہے اور وہی وصیت اپنی عبارت کے مطابق نافذ العمل ہے۔ نظامِ جماعت کے تحت وصیت کا تقاضا اس لیے ہے کہ یہی موصی کی آخری وصیت ہو؛ اس کے بعد موصی کوئی ایسی وصیت نہیں کر سکتا جو کسی طور اس پر اثر انداز ہو۔ اس لیے مقامی طور پر کی جانے والی کوئی بھی وصیت نظامِ جماعت کے تحت کی گئی وصیت سے متصادم نہیں ہونی چاہیے۔ مقامی وصیت میں صدر انجمن احمدیہ کا حصہ بطور قرض ظاہر کرنا چاہیے۔
قواعدِ وصیت میں مجلسِ کارپرداز کے ضوابط میں درج ہے:
”کم سے کم آمد: چونکہ موصی سے غیر معمولی قربانی متوقع ہے، اس لیے اس بات کا اندازہ لگایا جانا چاہیے کہ کسی خاص ملک میں گزر بسر کے لیے کم سے کم کتنی آمد درکار ہے۔ وصیت کی منظوری پر غور کرتے وقت اس کم سے کم آمد کو پیشِ نظر رکھا جائے۔“
اسی کے مطابق مجلسِ کارپرداز نے مارچ 2008ء میں امریکہ کے غیر کمانے والے موصیان کے لیے چندہ وصیت کی خاطر کم سے کم معیارِ قربانی 250 ڈالر ماہانہ آمد (جیب خرچ) مقرر کیا۔
جی ہاں۔ اس صورت میں موصی اپنے آبائی ملک میں ملنے والی پنشن پر بھی حصہ آمد ادا کرے گا اور امریکہ میں اپنے اخراجاتِ زندگی کی بنیاد پر بھی حصہ آمد ادا کرے گا۔ مجلسِ کارپرداز ربوہ کی جانب سے امریکہ کے غیر کمانے والے موصیان کے لیے کم سے کم آمد (جیب خرچ) 250 ڈالر ماہانہ مقرر ہے۔
اصولی طور پر حصہ آمد اُسی ملک میں ادا کرنا ضروری ہے جہاں آمد وصول ہو رہی ہو۔ تاہم اگر موصی کا آبائی ملک میں کوئی ایسا فرد نہ ہو جو اس کی طرف سے چندہ حصہ آمد جمع کرا سکے، تو موصی کو دفترِ وصایا امریکہ کو تحریر کر کے اس خصوصی انتظام کے لیے مرکز سے اجازت طلب کرنی چاہیے۔ صرف مرکز کی منظوری کی صورت میں ہی حصہ آمد امریکی ڈالر میں ادا کیا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں موصی کو ہر سال دو الگ الگ شیڈول سی (Schedule C) فارم جمع کرانے ہوں گے: ایک امریکہ میں واجب الادا حصہ آمد کے اعلان کے لیے اور دوسرا دوسرے ملک میں واجب الادا حصہ آمد کے اعلان کے لیے۔
موصی پر لازم ہے کہ:
* الف) اپنی وفات پر اپنی جائیداد کا 1/10 سے 1/3 حصہ وصیت کرے۔
* ب) اپنی زندگی میں جائیداد سے حاصل ہونے والی آمد کے سوا تمام ذرائع سے حاصل ہونے والی آمد پر 1/10 سے 1/3 کی شرح سے چندہ حصہ آمد ادا کرے۔
* ج) کسی بھی جائیداد سے حاصل ہونے والی آمد پر چندہ عام کی شرح (یعنی 1/16) سے چندہ حصہ آمد ادا کرے۔
جس موصی کا اپنا کوئی ذریعہ آمد نہ ہو اس کے بارے میں مروجہ طریق یہ ہے کہ اس کا شریکِ حیات ایک مناسب رقم بطور جیب خرچ مقرر کرے، جسے وصیت کے لحاظ سے موصی کی آمد شمار کیا جاتا ہے۔ اپنی مالی قربانی کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے موصی کو اسی جیب خرچ پر چندہ حصہ آمد ادا کرنا چاہیے۔
جیب خرچ موصی کے معیارِ زندگی کے مطابق ہونا چاہیے، اور موصی کی مالی قربانی چندہ عام ادا کرنے والے رکن کی قربانی سے ممتاز ہونی چاہیے۔ بہر حال یہ جیب خرچ اُس کم سے کم رقم سے کم نہیں ہونا چاہیے جو مجلسِ کارپرداز نے ملکِ رہائش کے لیے مقرر کی ہے۔
جماعت احمدیہ امریکہ کے لیے مجلسِ کارپرداز نے کم سے کم معیارِ آمد (جسے غیر کمانے والے اراکین، بشمول خواتینِ خانہ، کے لیے ”جیب خرچ“ بھی کہا جاتا ہے) 250 ڈالر ماہانہ مقرر کیا ہے۔ اس رقم کی بنیاد پر 1/10 کی عام شرحِ وصیت کے مطابق کم سے کم واجب الادا چندہ حصہ آمد 25 ڈالر ماہانہ بنتا ہے۔ اگر کسی موصی نے اس سے زیادہ شرحِ وصیت مقرر کر رکھی ہو تو اسی 250 ڈالر ماہانہ جیب خرچ پر اسی شرح کے مطابق حصہ آمد شمار کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ قواعد کے مطابق وہ تمام موصیان جن کی اپنی کوئی آمد نہیں (مثلاً خواتینِ خانہ) اپنے معیارِ زندگی کے مطابق حصہ آمد ادا کرنے کے پابند ہیں۔ 250 ڈالر ماہانہ آمد ایسے موصیان کے لیے مالی قربانی کا کم سے کم معیار ہے؛ اگر اُنہیں اس سے زیادہ جیب خرچ ملتا ہو تو حصہ آمد اسی کے مطابق ادا کیا جائے۔
یہ قاعدہ طلبہ پر لاگو نہیں ہوتا۔
نہیں۔ غیر کمانے والی خاتونِ خانہ پر 250 ڈالر ماہانہ جیب خرچ کی بنیاد پر کم سے کم مقررہ شرح کے مطابق حصہ آمد ادا کرنا لازم ہے۔
شادی شدہ طالبِ علم سے عموماً یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم، مثلاً پی ایچ ڈی یا میڈیکل کی تعلیم، حاصل کر رہا ہو گا، اور اسے یونیورسٹی سے ملنے والی کسی بھی ماہانہ آمد — مثلاً ریسرچ اسٹائپنڈ، فیلوشپ یا میڈیکل ریزیڈنسی کی تنخواہ — پر مقررہ شرحِ وصیت کے مطابق حصہ آمد ادا کرنا چاہیے۔
طلبہ کے لیے استثنا اُن کے شریکِ حیات تک وسیع نہیں ہوتا: غیر کمانے والی خاتونِ خانہ پر 250 ڈالر ماہانہ جیب خرچ کی بنیاد پر کم سے کم مقررہ شرح کے مطابق حصہ آمد ادا کرنا بدستور لازم رہتا ہے۔
طلبہ کے وظائف اور اسکالرشپس پر مقررہ شرحوں کے مطابق چندہ واجب نہیں۔ تاہم طلبہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ جماعت کے مشورہ سے ایک رقم مقرر کریں اور اسی کے مطابق اپنا چندہ ادا کریں۔
جس آمد پر چندہ واجب ہے اس سے مراد تمام ذرائع سے حاصل ہونے والی ہر قسم کی آمد ہے۔ حقیقی آمد میں سے صرف درج ذیل ادائیگیاں منہا کی جا سکتی ہیں:
1. وہ الاؤنسز جو ملازمین کو ملتے ہیں مگر جن کا خرچ ملازم کے اختیار میں نہیں ہوتا۔
2. حکومت کی جانب سے عائد کردہ لازمی وفاقی اور ریاستی ٹیکس۔
3. ہیلتھ انشورنس کے پریمیم۔
4. ملازمین کو مخصوص اخراجات کے لیے دیے جانے والے الاؤنسز، مثلاً یونیفارم الاؤنس، تعلیمی الاؤنس یا بچوں کا الاؤنس۔
5. سرکاری فرائض کی ادائیگی کے لیے دیے جانے والے الاؤنسز، مثلاً ٹریولنگ الاؤنس (TA) یا ڈیلی الاؤنس (DA)۔
غیر موصی اراکین حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو تحریر کر کے چندہ عام میں رعایت یا معافی کی درخواست کر سکتے ہیں۔ تاہم قواعدِ وصیت کے تحت کسی موصی کو حصہ آمد یا حصہ جائیداد کے واجبات میں معافی نہیں دی جا سکتی۔
قاعدہ 60: وصیت کے واجبات کے بقایاجات کی معافی کسی بھی صورت میں نہیں دی جا سکتی۔
قواعدِ وصیت میں شدید مالی تنگی کی صورت میں صرف یہی گنجائش موجود ہے کہ وصیت منسوخ کرا لی جائے۔
قاعدہ 66: جو موصی وسائل کی کمی کے باعث اپنی وصیت جاری رکھنے سے قاصر ہو، اس کی درخواست پر اس کی وصیت منسوخ کر دی جائے گی۔
اگر موصی بعد میں اپنی وصیت بحال کرانا چاہے تو قاعدہ 75 لاگو ہو گا:
قاعدہ 75: قاعدہ 66 کے تحت منسوخ شدہ وصیت کی بحالی پر موصی کی درخواست پر اُنہی شرائط و ضوابط کے مطابق غور کیا جا سکتا ہے جو نئی وصیت پر لاگو ہوتی ہیں۔ مزید برآں یہ بھی ضروری ہو گا کہ:
(i) وہ منسوخی کے وقت واجب الادا چندہ وصیت کے بقایاجات ادا کرے۔
(ii) وہ اُس عرصہ میں جس میں اس کی وصیت منسوخ رہی، مقررہ شرح کے مطابق باقاعدگی سے چندہ عام ادا کرتا رہا ہو۔
(iii) وہ منسوخی کے عرصہ کے لیے ادا شدہ چندہ عام اور واجب الادا حصہ آمد کا فرق ادا کرے۔
نوٹ: اگر بعض حالات کی بنا پر متعلقہ شخص اپنی وصیت بحال نہ کرا سکے تو مجلسِ کارپرداز اس کی نئی وصیت کی درخواست پر غور کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں مذکورہ بالا شق (iii) پر عمل ضروری نہیں ہو گا۔
(قراردادِ غیر معمولی نمبر 11، صدر انجمن احمدیہ پاکستان، مورخہ 13 اپریل 1989ء)
نہیں۔ مکان یا گاڑی کی انشورنس جیسی ادائیگیاں، خواہ وہ لازمی ہی کیوں نہ ہوں، چندہ کے لحاظ سے کل آمد میں سے منہا نہیں کی جا سکتیں۔ جہاں مارگیج کمپنی سے قرض لینے کے لیے مکان کی انشورنس کرانا ضروری ہو، وہاں بھی فائدہ خریدار ہی کو پہنچتا ہے، اس لیے ایسے اخراجات عام اخراجات ہی شمار ہوتے ہیں۔ چندہ کے لحاظ سے اپنی حقیقی آمد میں سے کوئی قسط، مارگیج کی ادائیگی، سود یا انشورنس منہا کرنا جائز نہیں۔
جی ہاں، پنشن کی آمد پر حصہ آمد واجب ہے۔ اگرچہ پنشن کا کچھ حصہ اُن رقوم پر مشتمل ہو سکتا ہے جو فرد نے حصہ آمد ادا کرنے کے بعد جمع کرائی تھیں، مگر عموماً یہ رقوم کل وصول شدہ پنشن کا ایک معمولی حصہ ہوتی ہیں۔ اس لیے عام طور پر پوری پنشن کی آمد پر حصہ آمد واجب ہے۔
اگر کوئی فرد اپنی پہلے سے جمع کرائی گئی رقوم کا حصہ نکالنا چاہے تو صرف وہی مخصوص رقم منہا کی جا سکتی ہے؛ باقی وصول شدہ پنشن پر حصہ آمد بدستور واجب رہے گا۔
401(k) ریٹائرمنٹ پلان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ 401(k) میں ملازم کی جمع کردہ رقوم تنخواہ ملنے سے پہلے ہی اس میں سے کاٹ لی جاتی ہیں، اور عموماً جمع کراتے وقت ان پر حصہ آمد ادا نہیں کیا جاتا۔ اس لیے ریٹائرمنٹ پر جب 401(k) کی بچت میں سے آمد لی جائے تو ہر ماہ نکالی جانے والی پوری رقم پر حصہ آمد واجب ہو گا۔
جی ہاں۔ جہاں موصی کی جائیداد سے کوئی آمد حاصل ہو، وہاں اس آمد پر چندہ عام کی شرح یعنی 1/16 کے مطابق حصہ آمد واجب ہے۔
مرکز کی طرف سے درج ذیل راہنمائی عطا ہوئی ہے:
* الف) جب کسی شخص کے پاس نقد جائیداد خریدنے کی استطاعت نہ ہو تو وہ قرض لے کر جائیداد خریدتا ہے۔ اگر وہ اپنی زندگی میں اس جائیداد کا حصہ جائیداد ادا کرنا چاہے تو قرض کی ذمہ داری اسی پر ہو گی اور اسے تشخیص کے وقت کی جائیداد کی قیمت کے مطابق حصہ جائیداد ادا کرنا ہو گا۔ زندگی میں لیا گیا قرض شمار نہیں کیا جاتا، کیونکہ ہر شخص وقتاً فوقتاً قرض لیتا اور ادا کرتا رہتا ہے۔
* ب) ایک شخص پہلے ذریعہ آمد پیدا کرتا ہے اور اس پر حصہ آمد ادا کرتا ہے۔ پھر باقی ماندہ آمد سے، خواہ نقد ہو یا اقساط پر، جائیداد خریدتا ہے۔ اس جائیداد پر وصیت کی ادائیگی موصی کی وفات کے بعد لازم ہوتی ہے — البتہ موصی کے پاس یہ آسان صورت بھی موجود ہے کہ وہ چاہے تو یہ رقم اپنی زندگی ہی میں ادا کر دے۔
* ج) حصہ جائیداد کی شرح وہی ہو گی جو موصی نے خود اپنے لیے مقرر کی، یعنی 1/10 سے 1/3 کے درمیان۔
* د) حصہ جائیداد باقاعدہ تشخیص کے وقت کی موجودہ مارکیٹ ویلیو پر واجب ہو گا، سوائے اس صورت کے جب موصی نے اسی جائیداد پر خریداری کے وقت پہلے ہی حصہ جائیداد ادا کر دیا ہو۔
اگر ایک موصی اپنی آمد پر حصہ آمد ادا کرتا ہے اور باقی ماندہ بچت اسٹاکس، ای ٹی ایفز، کاروبار یا کسی اور سرمایہ کاری میں لگا دیتا ہے، تو یہ لگائی گئی رقم اس کی جائیداد کا حصہ بن جاتی ہے اور اس پر حصہ جائیداد واجب ہو جاتا ہے۔
موصی ایسی سرمایہ کاری پر حصہ جائیداد کی ذمہ داری درج ذیل میں سے کسی بھی طریق سے پوری کر سکتا ہے:
* ابتدائی سرمایہ کاری کے وقت؛
* بعد میں کسی وقت سرمایہ کاری کی مارکیٹ ویلیو کی بنیاد پر؛ یا
* سرمایہ کاری فروخت کرنے کے وقت۔
اس کے علاوہ اگر سرمایہ کاری سے آمد حاصل ہو — مثلاً ڈیویڈنڈ یا حاصل شدہ کیپیٹل گین — تو اس آمد پر موصی کی منظور شدہ شرحِ وصیت کے مطابق حصہ آمد واجب ہو گا۔
اگر سرمایہ کاری پر حصہ جائیداد ادا کیا جا چکا ہو اور اس سے حاصل ہونے والی آمد یا منافع پر حصہ آمد بھی ادا ہو چکا ہو، تو فروخت سے حاصل ہونے والی خالص رقم کسی اور سرمایہ کاری میں دوبارہ لگائی جا سکتی ہے اور اسی رقم پر دوبارہ حصہ جائیداد واجب نہیں ہو گا۔ نئی سرمایہ کاری پر حصہ جائیداد شمار کرتے وقت پچھلی سرمایہ کاری سے منتقل ہونے والی رقم قیمتِ خرید میں سے منہا کر دی جاتی ہے؛ حصہ جائیداد صرف اُس اضافی رقم پر واجب ہو گا جو نئی سرمایہ کاری میں شامل کی گئی ہو۔
اس بارے میں مرکز کا وضاحتی مکتوب یہاں دستیاب ہے۔
مثال نمبر 1 — اسٹاکس اور دوبارہ سرمایہ کاری
ایک موصی اپنی اُس بچت میں سے، جس پر حصہ آمد ادا ہو چکا ہے، 10,000 ڈالر اسٹاکس میں لگاتا ہے۔ موصی کی منظور شدہ شرحِ وصیت 1/10 ہے، اس لیے وہ اس سرمایہ کاری پر 1,000 ڈالر بطور حصہ جائیداد ادا کرتا ہے۔ دو سال بعد موصی یہ اسٹاکس 15,000 ڈالر میں فروخت کر دیتا ہے۔ 5,000 ڈالر کے منافع کو آمد شمار کیا جائے گا اور موصی اس حاصل شدہ منافع پر 500 ڈالر بطور حصہ آمد ادا کرے گا۔ فروخت سے حاصل ہونے والی باقی 14,500 ڈالر کی خالص رقم پھر دوبارہ لگائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ بچت میں سے مزید 5,000 ڈالر شامل کر کے 19,500 ڈالر کے سونے کے بسکٹ خریدے جاتے ہیں۔
چونکہ اصل سرمایہ کاری پر حصہ جائیداد اور حاصل شدہ منافع پر حصہ آمد پہلے ہی ادا ہو چکا ہے، اس لیے اسٹاکس کی فروخت سے منتقل ہونے والے 14,500 ڈالر نئی سرمایہ کاری میں شمار کر لیے جائیں گے۔ سونے پر حصہ جائیداد شمار کرتے وقت کل 19,500 ڈالر کی سرمایہ کاری میں سے 14,500 ڈالر منہا کر دیے جائیں گے اور حصہ جائیداد صرف بچت میں سے شامل کیے گئے اضافی 5,000 ڈالر پر واجب ہو گا۔
مثال نمبر 2 — کاروباری سرمایہ کاری
ایک موصی مکانات کی خرید و فروخت (house flipping) کے کاروبار میں 40,000 ڈالر لگاتا ہے مگر ابتدائی سرمایہ کاری کے وقت حصہ جائیداد ادا نہیں کرتا۔ جائیداد کی مرمت و تزئین کے بعد اسے فروخت کرنے پر موصی کو 60,000 ڈالر ملتے ہیں، جن میں اصل 40,000 ڈالر کی سرمایہ کاری اور 20,000 ڈالر کا منافع شامل ہے۔
پھر موصی فروخت سے ملنے والے 60,000 ڈالر پر 6,000 ڈالر بطور حصہ جائیداد ادا کرتا ہے۔
اس کے بعد موصی پہلے منصوبے کی باقی ماندہ 54,000 ڈالر کی رقم دوبارہ لگاتا ہے اور مزید 16,000 ڈالر شامل کر کے دوسرے منصوبے میں کل 70,000 ڈالر کی سرمایہ کاری کرتا ہے۔ اس دوسری سرمایہ کاری سے 30,000 ڈالر کا منافع ہوتا ہے اور فروخت سے کل 100,000 ڈالر حاصل ہوتے ہیں۔
چونکہ پہلے منصوبے سے منتقل ہونے والے 54,000 ڈالر پر حصہ جائیداد پہلے ہی ادا ہو چکا ہے، اس لیے حصہ جائیداد شمار کرتے وقت یہ رقم دوسرے منصوبے کی 100,000 ڈالر کی فروخت میں سے منہا کر دی جائے گی۔ چنانچہ حصہ جائیداد صرف اضافی 46,000 ڈالر پر واجب ہو گا، یعنی 4,600 ڈالر کی ادائیگی بنے گی۔
جی ہاں۔ اصولِ وصیت کے مطابق جب بھی نقد رقم یا بچت کسی جائیداد کی صورت اختیار کر لے تو وہ ایسی جائیداد بن جاتی ہے جس پر حصہ جائیداد واجب ہے۔ جب دوسری جائیداد خریدی جائے تو وہ ایک اضافی جائیداد شمار ہوتی ہے اور اس کی الگ تشخیص کی جاتی ہے۔
یہ صورت اُس صورت سے مختلف ہے جس میں موصی پہلے اپنی موجودہ جائیداد فروخت کرتا ہے اور پھر اسی رقم سے متبادل جائیداد خریدتا ہے۔ اس صورت میں نئی خریدی گئی جائیداد پہلی کا متبادل شمار ہوتی ہے اور حصہ جائیداد صرف دونوں جائیدادوں کی قیمت کے فرق پر شمار کیا جاتا ہے۔
مذکورہ صورت میں چونکہ دوسری جائیداد پہلا مکان فروخت کرنے سے پہلے خریدی گئی، اس لیے موصی بیک وقت دونوں جائیدادوں کا مالک ہے۔ چنانچہ نئی خریدی گئی جائیداد ایک اضافی اثاثہ ہے اور اصولِ وصیت کے مطابق اس پر بھی حصہ جائیداد واجب ہو گا۔
اس لیے اگر موصی اپنی زندگی میں دونوں جائیدادوں کا حصہ جائیداد ادا کرنا چاہے تو ہر جائیداد کی الگ تشخیص کرائی جائے گی اور ہر ایک پر اس کی تشخیص شدہ قیمت کے مطابق حصہ جائیداد واجب ہو گا۔
جی ہاں۔ ریٹائرمنٹ کی بچت کا اکاؤنٹ، مثلاً 401(k)، 403(b)، 457، IRA یا Roth وغیرہ، موصی کی جائیداد کا حصہ شمار ہوتا ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد جب موصی اس اکاؤنٹ سے وقفے وقفے سے رقم نکالنا شروع کرے تو یہ رقوم آمد شمار ہوں گی اور ٹیکس کٹوتی کے بعد ملنے والی خالص آمد پر حصہ آمد واجب ہو گا۔
اگر موصی ریٹائرمنٹ اکاؤنٹ سے ساری رقم یکمشت لینے کا فیصلہ کرے تو ٹیکس کے بعد ملنے والی خالص رقم پر حصہ جائیداد ادا کیا جا سکتا ہے۔
اگر موصی کی وفات کے وقت ریٹائرمنٹ اکاؤنٹ میں کوئی رقم باقی ہو تو اکاؤنٹ متعلقہ قوانین اور پلان کے ضوابط کے مطابق ختم کر دیا جاتا ہے۔ ٹیکس کے بعد ورثہ یا وارثوں کو ملنے والی خالص رقم ترکہ شمار ہو گی، جس پر حصہ جائیداد لازم ہے۔
موصی یہ بھی کر سکتا ہے کہ ریٹائرمنٹ اکاؤنٹ میں موجود رقم کے 10 فیصد — یا اپنی مقررہ شرحِ وصیت کے مطابق حصہ — کے لیے ”احمدیہ موومنٹ اِن اسلام“ کو بطور بینیفشری (beneficiary) نامزد کر دے۔
* اگر مرحوم موصی نے اپنی زندگی میں انشورنس کے پریمیم اپنی آمد پر حصہ آمد ادا کرنے کے بعد ادا کیے تھے، تو وفات کے بعد ورثاء کو ملنے والی رقم مرحوم موصی کے ترکہ میں شمار نہیں ہو گی اور مرحوم کی طرف سے اس پر حصہ جائیداد لازم نہیں ہو گا۔
* اگر اس بارے میں موصی کا کوئی بیان موجود نہ ہو تو فیصلہ ورثاء کے بیان اور مقامی جماعت کی رپورٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اگر انشورنس کے پریمیم پر پہلے حصہ آمد ادا نہ کیا گیا ہو تو انشورنس کلیم کا صرف وہی حصہ مرحوم موصی کے ترکہ میں شمار ہو گا جس پر چندہ حصہ آمد واجب تھا۔
* انشورنس کمپنی سے بطور منافع ملنے والی کوئی اضافی رقم مرحوم موصی کے ترکہ میں شمار نہیں ہو گی۔
جی ہاں، بالکل۔ انشورنس کمپنی سے ملنے والی رقم ہر صورت میں ورثاء کے لیے وراثت شمار ہوتی ہے، اور اگر وہ ورثاء موصی ہوں تو اُن پر اس کا حصہ جائیداد لازم ہے۔
یہ سوال حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش ہوا، جس کا جواب آپؓ نے یوں دیا:
”ہاں دینا چاہیے۔ وصیت تو اصل میں مرنے کے بعد اُس میں سے دینی ہے جو کچھ انسان چھوڑ کر جاتا ہے۔ جب انسان اپنی آمد میں سے روپیہ بچا کر جائیداد بناتا ہے تو اگر جائیداد کی بجائے وہ اسے کسی اور کام میں لگاتا تو جو آمد اس سے ہوتی، اس میں سے وہ حصہ وصیت ادا کرتا۔ پس جب وہ جائیداد پر روپیہ خرچ کرتا ہے تو اس میں سے حصہ کیوں نہ دے، کیونکہ یہ جائیداد ہی تو ہے جو پیدا ہوئی ہے۔ اگر ایک شخص کے پاس دس گھمائوں زمین ہو اور ایک گھمائوں وصیت میں دینے کے بعد باقی زمین کی آمد سے کچھ روپیہ جمع کر لے، جس کی اس کی وفات کے بعد تشخیص ہو، تو اس پر بھی حصہ وصیت ادا کرنا ہو گا۔“
موصی کی رہائش گاہ کے علاوہ اس کے کسی بھی مکان یا زمین پر حصہ جائیداد کے وہی قواعد لاگو ہوں گے۔ اگر تشخیص موصی کی زندگی میں کی جائے تو جائیداد کی تشخیص اُس وقت کی مناسب مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہو گی۔ جائیداد پر باقی ماندہ مارگیج کا قرض تشخیص شدہ قیمت میں سے منہا نہیں کیا جائے گا۔
چونکہ یہ جائیدادیں موصی کی رہائش گاہ نہیں ہیں، اس لیے موصی کو منظور شدہ تشخیصِ حصہ جائیداد ادا کرنے کے لیے دو سال تک کی مہلت ہو گی۔ ایک بار حصہ جائیداد مکمل ادا ہو جانے کے بعد اُس جائیداد کی قیمت میں آئندہ ہونے والے اضافہ پر مزید حصہ جائیداد واجب نہیں ہو گا۔
اِن جائیدادوں سے حاصل ہونے والی کرایہ کی آمد پر چندہ عام کی شرح (1/16) کے مطابق حصہ آمد واجب ہو گا۔
گاڑی، دیگر قابلِ صرف اشیاء کی طرح، چندہ وصیت کے لحاظ سے کسی کی جائیداد میں شامل نہیں کی جاتی، سوائے اِن صورتوں کے: جب کسی کے پاس اپنی وصیت کی بنیاد بنانے کے لیے کوئی اور جائیداد نہ ہو اور وہ اپنی خوشی سے اپنی گاڑی اور اسی قسم کی اشیاء پر چندہ حصہ جائیداد ادا کرے؛ یا جب اس کی جائیداد بنیادی طور پر اِنہی اشیاء پر مشتمل ہو؛ یا جب اس کے پاس ایسی قیمتی اشیاء کا ایسا ذخیرہ ہو جسے حقیقتاً اس کی جائیداد قرار دیا جا سکے۔
قواعدِ وصیت میں طریقِ تشخیص کے تحت ضابطہ نمبر 10 میں درج ہے:
”موصی کی وہ جائیداد جو کسی قانونی تقاضے یا ضرورت کے تحت کسی دوسرے شخص کے نام بھی ہو، اُسی شخص کی ملکیت شمار ہو گی جس نے حقیقتاً اسے خریدا ہے، اور اسے مشترکہ جائیداد نہیں سمجھا جائے گا۔“
* الف) چنانچہ اگر قانونی تقاضوں، مقامی قوانین یا اسی نوعیت کی وجوہات کی بنا پر موصی نے جائیداد کے کاغذات میں اپنے شریکِ حیات یا کسی اور وارث کو مشترکہ مالک کے طور پر شامل کیا ہو، مگر اس فرد نے جائیداد کی خرید، حصول، ترقی یا تعمیر میں کوئی مالی حصہ نہ ڈالا ہو، تو جائیداد صرف اُسی موصی کی ملکیت شمار ہو گی جس نے اس کی رقم ادا کی۔ وہی موصی 100 فیصد مالک شمار ہو گا اور جائیداد کی پوری قیمت پر حصہ جائیداد ادا کرنے کا ذمہ دار ہو گا۔ اگر دوسرا شریکِ حیات بھی موصی ہو مگر اس نے جائیداد میں کوئی مالی حصہ نہ ڈالا ہو تو جائیداد اس کی ملکیت شمار نہیں ہو گی اور نہ ہی اس پر اس کا حصہ جائیداد لازم ہو گا۔
* ب) اگر شریکِ حیات یا کسی اور مشترکہ مالک نے جائیداد کی خرید، حصول، ترقی یا تعمیر میں مالی حصہ ڈالا ہو تو ملکیت ہر فریق کے مالی حصہ کے تناسب سے متعین ہو گی۔
* ج) اگر مشترکہ مالکان میں سے ایک کی وفات ہو جائے اور جائیداد میں اس کا حصہ زندہ شریکِ حیات کو بطور وراثت ملے، اور وہ شریکِ حیات موصی ہو، تو اس پر اِس ورثہ میں ملنے والے حصہ پر مقررہ شرح کے مطابق حصہ جائیداد ادا کرنا لازم ہو گا۔
جی ہاں۔ موصی کی وفات پر مکان کے جو حصے شریکِ حیات اور بچوں کو ورثہ میں ملیں گے وہ اُن کی اپنی جائیداد بن جائیں گے۔ چنانچہ ہر موصی وارث پر اپنے ورثہ میں ملنے والے حصہ پر اپنی مقررہ شرحِ وصیت کے مطابق حصہ جائیداد واجب ہو گا۔
مثلاً اگر زندہ شریکِ حیات کو مکان کا آٹھواں حصہ (1/8) ورثہ میں ملے تو اسے مکان کی تشخیص شدہ مارکیٹ ویلیو کے آٹھویں حصہ پر اپنی مقررہ شرحِ وصیت کے مطابق حصہ جائیداد ادا کرنا ہو گا۔
قواعدِ وصیت میں طریقِ تشخیص کے تحت ضابطہ نمبر 11 میں درج ہے:
”وہ جائیداد جو موصی نے حاصل کی ہو مگر بعد میں ہبہ کر دی ہو یا کسی اور کے نام کروا دی ہو، وہ بھی موصی کے ترکہ کا حصہ شمار ہو گی۔“
مزید برآں قواعدِ وصیت کے قاعدہ نمبر 49 میں درج ہے:
”(الف) اگر موصی اپنی غیر منقولہ جائیداد اپنے وارث یا وارثوں کے حق میں ایسے حالات میں ہبہ کرے کہ وہ اُن وارثوں کے لیے وصیت کی طرح معلوم ہو، یا جس سے وصیت کی روح کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو، تو ایسی جائیداد پر بھی حصہ جائیداد واجب ہو گا اور موصی کی وفات کی صورت میں وہ جائیداد موصی کا ترکہ شمار ہو گی۔
(ب) اگر موصی اپنی وہ منقولہ جائیداد، جس پر وصیت کی ادائیگی لازم ہے، اپنے وارث یا وارثوں کے حق میں ایسے حالات میں ہبہ کرے کہ وہ اُن وارثوں کے لیے وصیت کی طرح معلوم ہو، یا جس سے وصیت کی روح کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو، تو ایسی منقولہ جائیداد پر بھی حصہ وصیت واجب ہو گا۔“
پس موصی پر ایسی جائیداد کا حصہ جائیداد ادا کرنا لازم ہے۔
قواعدِ وصیت میں طریقِ تشخیص کے تحت ضابطہ نمبر 9 میں درج ہے:
”تمام رہن شدہ جائیدادوں پر حصہ جائیداد کی ادائیگی لازم ہو گی۔ یہ دو طریقوں سے ادا کیا جا سکتا ہے:
(i) اگر موصی رہن شدہ جائیداد کا حصہ جائیداد اپنی زندگی میں ادا کرنا چاہے تو جائیداد کی تشخیص مارکیٹ ویلیو کے مطابق کی جائے گی اور رہن کی باقی ماندہ رقم تشخیص شدہ قیمت میں سے منہا نہیں کی جائے گی۔
(ii) اگر رہن شدہ جائیداد کا حصہ جائیداد موصی کی زندگی میں ادا نہ کیا گیا ہو تو اس کی وفات کے بعد یہ صرف اُس رقم پر واجب ہو گا جو جائیداد کی تشخیص شدہ قیمت میں سے رہن کی باقی ماندہ رقم منہا کرنے کے بعد بنے گی۔“
مذکورہ بالا قاعدہ کی روشنی میں مارگیج پر حاصل کی گئی جائیداد کا حصہ جائیداد ادا کرنے کی صرف دو صورتیں ہیں:
* الف) اگر موصی اپنی زندگی میں حصہ جائیداد ادا کرنا چاہے تو جائیداد کی تشخیص موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہو گی اور باقی ماندہ مارگیج منہا نہیں کیا جائے گا، کیونکہ زندگی میں قرض کو شمار نہیں کیا جاتا۔ ایک بار حصہ جائیداد مکمل ادا ہو جانے کے بعد اُس جائیداد کی قیمت میں آئندہ ہونے والے اضافہ پر مزید حصہ جائیداد واجب نہیں ہو گا۔
* ب) اگر موصی اپنی زندگی میں حصہ جائیداد ادا نہ کرے تو اس کی وفات کے بعد ترکہ اس ترتیب سے تقسیم ہو گا: پہلے تمام قرض ادا کیے جائیں گے، پھر وصیت پوری کی جائے گی، اور آخر میں باقی ماندہ ترکہ بطور وراثت تقسیم ہو گا۔ ایسی صورت میں پہلے باقی ماندہ مارگیج جائیداد کی قیمت میں سے منہا کیا جائے گا اور پھر باقی ماندہ قیمت پر حصہ جائیداد شمار کر کے ادا کیا جائے گا — یعنی موصی کی وفات کے وقت جائیداد میں اس کی حقیقی ملکیت (equity) پر۔
جن موصیان نے کسی جائیداد کا حصہ جائیداد ادا کر کے اس کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا ہو، اُن کے لیے:
1. اگر وہ اس جائیداد کو فروخت کریں تو فروخت سے حاصل ہونے والی رقم پر نہ حصہ آمد واجب ہے نہ حصہ جائیداد۔
2. اگر حصہ جائیداد ادا کرنے کے بعد وہ فروخت کی رقم سے اُسی قیمت کی کوئی اور جائیداد خریدیں تو نئی جائیداد پہلی کا متبادل شمار ہو گی اور اس پر حصہ جائیداد واجب نہ ہو گا۔ البتہ اس تبدیلی کی اطلاع دفتر کو دینا ضروری ہے۔
3. اگر نئی جائیداد پہلی جائیداد کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے کم قیمت میں خریدی جائے تو باقی ماندہ رقم یا منافع پر حصہ جائیداد واجب نہ ہو گا (البتہ اگر جائیداد کی خرید و فروخت بطور کاروبار کی جا رہی ہو تو منافع پر حصہ آمد واجب ہو گا)۔
4. اگر حصہ جائیداد ادا کرنے کے بعد جائیداد فروخت کر کے اس سے مہنگی جائیداد خریدی جائے تو نئی جائیداد کے حصہ جائیداد میں صرف پہلی جائیداد کی فروخت سے حاصل شدہ رقم شمار ہو گی۔ اگر خریداری میں مزید رقم شامل کی جائے تو اُس اضافی رقم پر حصہ جائیداد واجب ہو گا۔
مذکورہ بالا راہنمائی ہر قسم کی جائیداد پر لاگو ہوتی ہے، بشمول زیورات کے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے قرض پر حاصل کی گئی جائیداد کے بارے میں درج ذیل راہنمائی عطا فرمائی:
”اس مسئلہ کو دیکھنے کا بنیادی طریق یہ ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنا حصہ جائیداد ادا کرنا چاہے تو بعض شرائط کے ساتھ اس کی درخواست منظور کر لی جاتی ہے۔ لیکن اگر موصی یہ کہے کہ میری جائیداد پر اتنا قرض ادا کرنا باقی ہے، براہِ کرم یہ رقم منہا کر کے باقی پر حصہ جائیداد لے لیں، تو اس سے بعض پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ ایسی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے بہترین طریق یہ ہے کہ اگر ایسا شخص اپنی جائیداد کا حصہ جائیداد ادا کرنے کی درخواست کرے تو یہ درخواست اسی صورت میں منظور کی جائے کہ وہ خود اِن قرضوں کا ذمہ دار ہو گا۔ چنانچہ وہ اپنی جائیداد کی کل مارکیٹ ویلیو پر حصہ جائیداد ادا کرے گا۔ اگر وہ قرض منہا کرانا چاہے اور اسے اجازت دے دی جائے تو اس اجازت کا مطلب صرف یہ ہو گا کہ وہ صرف اُس جائیداد پر حصہ جائیداد ادا کرے گا جس پر کوئی قرض ادا کرنا باقی نہیں۔ جس جائیداد پر ابھی قرض ادا کرنا باقی ہے اس کا معاملہ موصی کی وفات تک مؤخر شمار ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس وقت تک قرض ادا ہو چکا ہو تو اس کی وفات پر اس جائیداد کا حصہ جائیداد طلب کیا جائے گا، کیونکہ اس نے قرض کا عذر کر کے اس پر حصہ جائیداد ادا نہیں کیا تھا۔ اگر کچھ قرض باقی ہو تو جائیداد کا تخمینہ لگایا جائے گا، اس میں سے قرض منہا کیا جائے گا اور باقی پر حصہ جائیداد واجب ہو گا۔ یہی وہ بنیادی قاعدہ ہے جو ایسے تمام معاملات میں لاگو ہو گا۔“
* الف) جی ہاں۔ موصی اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کی قیمت کی تشخیص کرا کے اسی کے مطابق حصہ جائیداد ادا کر سکتا ہے۔ تشخیص کا آغاز اس فارم کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے: https://www.ahmadiyya.us/members/wasiyyat-portal
* ب) ایسی ادائیگی کی شرح وہی ہو گی جو موصی نے مقرر کی اور مجلسِ کارپرداز نے منظور کی۔ موصی اپنی زندگی میں کسی بھی وقت حصہ آمد، حصہ جائیداد یا دونوں کے لیے شرحِ وصیت مقرر کر سکتا ہے۔
* ج) ہر قسم کی جائیداد کے لیے ایسی ادائیگی کی مدت تشخیص کی تاریخ سے دو سال ہے۔
* د) اگر جائیداد وہ مکان ہو جس میں موصی خود رہائش پذیر ہے تو یہ مدت پانچ سال تک بڑھ جاتی ہے۔
اگر موصی کسی جائیداد کا واحد مالک نہیں تو اسے مالی حصہ کی بنیاد پر متعین ہونے والے اپنے حصہ ملکیت کے مطابق حصہ جائیداد ادا کرنا ہو گا۔ اگر اس کا اس میں کوئی حصہ ہی نہ ہو اور جائیداد درحقیقت کسی اور کی ہو تو اس امر سے مجلسِ کارپرداز کو مطلع کرنا چاہیے۔
جی ہاں۔ موصی امریکہ سے باہر واقع جائیداد کا حصہ جائیداد امریکی ڈالر میں ادا کر سکتا ہے۔ اس کے لیے جائیداد کی منظور شدہ تشخیص شدہ قیمت کو ادائیگی کے وقت کی رائج شرحِ تبادلہ کے مطابق متعلقہ غیر ملکی کرنسی سے امریکی ڈالر میں تبدیل کر لینا چاہیے۔
مکانات کی خرید و فروخت کے کاروبار کو سرمایہ کاری شمار کیا جاتا ہے۔ جب موصی کوئی جائیداد مرمت و تزئین کر کے دوبارہ فروخت کرنے کی غرض سے خریدتا ہے تو اس سرمایہ کاری پر حصہ جائیداد واجب ہوتا ہے۔ موصی یہ ذمہ داری یا تو جائیداد خریدتے وقت قیمتِ خرید کی بنیاد پر پوری کر سکتا ہے یا فروخت کے وقت خالص حاصل شدہ رقم کی بنیاد پر۔
فروخت سے حاصل ہونے والا کوئی بھی منافع آمد شمار ہو گا اور اس پر موصی کی منظور شدہ شرحِ وصیت کے مطابق حصہ آمد واجب ہو گا۔
اگر موصی جائیداد فروخت کرتے وقت حصہ جائیداد ادا کرنے کا انتخاب کرے تو یہ فروخت سے حاصل ہونے والی خالص رقم پر شمار ہو گا، جس میں اصل سرمایہ کاری اور حاصل شدہ منافع دونوں شامل ہیں۔ اس رقم پر حصہ جائیداد ادا ہو جانے کے بعد باقی ماندہ رقم دوبارہ لگائی جا سکتی ہے۔ اگر یہ رقم کسی اور ایسے ہی منصوبے میں لگائی جائے تو جس رقم پر پہلے حصہ جائیداد ادا ہو چکا ہے وہ نئی سرمایہ کاری میں شمار کر لی جائے گی اور حصہ جائیداد صرف اضافی رقم پر واجب ہو گا۔
مثال
ایک موصی مکانات کی خرید و فروخت کے ایک منصوبے میں 40,000 ڈالر لگاتا ہے مگر خریداری کے وقت حصہ جائیداد ادا نہیں کرتا۔ جائیداد کی مرمت و تزئین کے بعد اسے فروخت کرنے پر موصی کو 60,000 ڈالر ملتے ہیں، جن میں اصل 40,000 ڈالر کی سرمایہ کاری اور 20,000 ڈالر کا منافع شامل ہے۔
موصی فروخت سے ملنے والے 60,000 ڈالر پر 6,000 ڈالر بطور حصہ جائیداد ادا کرتا ہے۔ حاصل شدہ 20,000 ڈالر کے منافع پر بھی موصی کی منظور شدہ شرحِ وصیت کے مطابق حصہ آمد واجب ہو گا۔
پھر موصی پہلے منصوبے کی باقی ماندہ 54,000 ڈالر کی رقم دوبارہ لگاتا ہے اور مزید 16,000 ڈالر شامل کر کے دوسرے منصوبے میں کل 70,000 ڈالر کی سرمایہ کاری کرتا ہے۔ اس سرمایہ کاری سے 30,000 ڈالر کا منافع ہوتا ہے اور فروخت سے کل 100,000 ڈالر حاصل ہوتے ہیں۔
چونکہ پہلے منصوبے سے منتقل ہونے والے 54,000 ڈالر پر حصہ جائیداد پہلے ہی ادا ہو چکا ہے، اس لیے یہ رقم دوسرے منصوبے کی 100,000 ڈالر کی فروخت میں شمار کر لی جائے گی۔ چنانچہ حصہ جائیداد صرف اضافی 46,000 ڈالر پر واجب ہو گا، یعنی 4,600 ڈالر کی ادائیگی بنے گی۔ اس کے بعد 30,000 ڈالر کے منافع پر موصی کی منظور شدہ شرحِ وصیت کے مطابق حصہ آمد واجب ہو گا۔
نہیں۔ جس قیمت پر حصہ جائیداد واجب ہے اس کی تشخیص ناظم صاحب تشخیصِ جائیداد موصیان مقامی جماعت کے عاملہ کے مشورہ سے کرتے ہیں۔ اس لیے اگر کوئی موصی اپنی کسی جائیداد کا حصہ جائیداد ادا کرنا چاہے تو اسے منظوری کے لیے ناظم صاحب تشخیصِ جائیداد موصیان کو تشخیصی فارم بھجوانا ہو گا۔ اسی عمل سے واجب الادا رقم متعین ہوتی ہے۔
مرکز کا درج ذیل وضاحتی نوٹ تمام اسنادِ وصیت پر درج ہوتا ہے اور اسی امر کی وضاحت کرتا ہے:
وضاحت نمبر 2 — موجودہ جائیداد: اس سے مراد وہ منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ہے جو موصی کی ملکیت ہو اور جسے اس نے مقررہ فارمِ وصیت میں ظاہر کیا ہو اور جس کی قیمت کا اندازہ اس نے خود لگایا ہو۔ حقیقی ادائیگی کے وقت، صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے قواعد و ضوابط کے مطابق، مذکورہ جائیداد کی قیمت کی تشخیص صدر انجمن کی مقرر کردہ تشخیصِ جائیداد کی اتھارٹی مقامی جماعت احمدیہ کے مشورہ سے کرے گی، اور موصی کی طرف سے واجب الادا صحیح رقم کا تعین صدر انجمن کرے گی۔
موصی کی وفات کے وقت اس کی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد اس کا ترکہ شمار ہوتی ہے۔ موصی کا مکان، زمین، زیورات، نقدی، بانڈز، حصص، ریٹائرمنٹ کی بچت اور اسی قسم کی تمام اشیاء اس کے ترکہ کا حصہ ہیں۔ مختصراً، وہ تمام اشیاء جو ورثاء میں تقسیم ہوتی ہیں موصی کا ترکہ شمار ہوتی ہیں۔ البتہ حصہ جائیداد کی ادائیگی کے وقت روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء کو مستثنیٰ رکھا جاتا ہے۔
نہیں۔ اگر موصی نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا حصہ جائیداد ادا کر دیا ہو تو ورثاء پر مرحوم کی طرف سے اُس جائیداد کا حصہ جائیداد دوبارہ ادا کرنا لازم نہیں۔
تاہم جب وہ جائیداد ورثہ میں منتقل ہو جاتی ہے تو وہ متعلقہ ورثاء کی اپنی جائیداد بن جاتی ہے۔ اگر کوئی وارث موصی ہو تو اس پر ورثہ میں ملنے والے اپنے حصہ پر اپنی شرحِ وصیت کے مطابق حصہ جائیداد ادا کرنا لازم ہو گا۔
حصہ جائیداد کی ادائیگی موصی کی وفات کے فوراً بعد لازم ہو جاتی ہے۔ اگر ورثاء فوری ادائیگی سے قاصر ہوں تو مجلسِ کارپرداز دو معتبر ضامن پیش کرنے کی شرط پر تدفین کی خصوصی اجازت دے سکتی ہے۔ ایسی ضمانت زیادہ سے زیادہ ایک سال کے لیے معتبر ہوتی ہے اور اسی مدت میں مکمل ادائیگی کرنا ضروری ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے موصی فارمِ وصیت کی پہلی شق میں یہ اقرار کرتا چلا آ رہا ہے:
”کہ میری وفات کے بعد میری لاش بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین کے لیے بھیجی جائے۔ … اگر میں نے اپنی وفات سے پہلے اپنی لاش قادیان پہنچانے کے اخراجات صدر انجمن احمدیہ کو ادا نہ کیے ہوں تو یہ اخراجات اُس جائیداد میں سے ادا کیے جائیں جو میں چھوڑ کر جاؤں۔ لیکن یہ اخراجات اُس حصہ جائیداد پر اثر انداز نہیں ہوں گے جو اس وصیت کے مطابق میں صدر انجمن احمدیہ کے سپرد کرتا ہوں۔“
جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ سے یہ سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”موصیان کو وہی اقرار کرتے رہنا چاہیے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے موصیان کرتے تھے۔ اس میں تبدیلی کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔“
* الف) جی ہاں، جو قواعد و ضوابط بہشتی مقبرہ پر لاگو ہوتے ہیں وہی کسی بھی مقبرہ موصیان پر لاگو ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ضوابط میں درج ہے، موصی کا حصہ آمد تدفین سے پہلے ادا ہونا چاہیے، البتہ حصہ جائیداد میں استثنا دیا جا سکتا ہے: اگر موصی کا حصہ جائیداد ادا نہ ہوا ہو تو دو موصیان کی جانب سے اس کی ادائیگی کی ضمانت پر تدفین ہو سکتی ہے۔ موصی کی وفات کے وقت اس کے حصہ آمد اور حصہ جائیداد سے متعلق تمام حسابات حاصل کرنا اور اسی کے مطابق واجبات وصول کرنا ضروری ہے۔
* ب) دوسرے ممالک میں موصیان کے قبرستانوں کو بہشتی مقبرہ کا نام نہیں دیا جا سکتا؛ اُنہیں مقبرہ موصیان کہا جاتا ہے۔
* ج) مقبرہ موصیان کے اُمور چلانے والی کمیٹی کے صدر امیر جماعت ہوتے ہیں اور نیشنل سیکرٹری وصایا اس کے سیکرٹری ہوتے ہیں۔ نیشنل فنانس سیکرٹری اور مبلغ انچارج بھی اس کے ممبر ہوتے ہیں۔ کمیٹی کے کل ممبران پانچ سے سات ہونے چاہئیں اور کورم تین کا ہو۔ یہ کمیٹی اپنے ملک کے اراکین کو وصیت کرنے کی مسلسل تحریک کرتی ہے اور موصیان کی تدفین اور مقبرہ موصیان سے متعلق اُمور کی بھی ذمہ دار ہوتی ہے۔
جی ہاں۔ کاروبار میں لگایا گیا اصل سرمایہ موصی کی جائیداد شمار ہوتا ہے، اور اس کی مکمل تفصیل فارمِ وصیت میں درج کرنا یا بعد میں ظاہر کرنا ضروری ہے۔ اس سرمایہ پر حصہ جائیداد واجب ہے۔
تاجر حضرات اپنی کل خالص آمد پر چندہ ادا کریں گے، یعنی مجموعی آمد میں سے وہ اخراجات منہا کرنے کے بعد جو اس آمد کے حصول کے لیے ضروری تھے۔ صرف اُس رقم پر چندہ حصہ آمد ادا کرنا درست نہیں جو کاروبار میں سے ماہانہ اخراجات کے لیے نکالی جاتی ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اس بارے میں اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مارچ 1986ء میں یہ راہنمائی عطا فرمائی:
"تاجر یہ حرکت کرتے ہیں کہ اپنے سارے اخراجات تجارتی کمپنیوں پر ڈال دیتے ہیں اس سے ٹیکس بھی بچتا ہے اور وصیت بھی بچ جاتی ہے۔ اور اپنے نام ایک سرسری سی رقم رکھ لیتے ہیں کہ ہم مہینہ میں پانچ سو روپے گھر لے کر گئے تھے اور وصیت پانچ سو روپے پر۔ لکھ پتی ہیں، ہزار ہا روپیہ ان کا ہفتہ کا خرچ ہو رہا ہوتا ہے، اولادیں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہوتی ہیں، ہر قسم کی نعمتیں حاصل ہیں مگر سب کے سب یا اکثر حصہ وہ کسی نہ کسی کمپنی کے نام کے اوپر کسی حساب میں وصول کیا جا رہا ہوتا ہے۔ حالانکہ امرِ واقعہ یہ ہے کہ چاہے ڈائریکٹر کے نام دو لکھ دو یا بچوں کے نام پر جو چاہو کر و، کمانے والے کی اپنی کمائی ہے۔ اللہ کو علم ہے کہ کس کی کمائی ہے اور وہ اگر دنیا کے قوانین سے استفادہ کی خاطر یہ حرکتیں کرتا ہے تو بعض دفعہ دنیا کا قانون اجازت بھی دیتا ہے لیکن خدا کے قانون کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا، وہ دنیا کے قانون کے تابع نہیں ہے، وہ الگ معاملہ کرے گا۔"
موصی چندہ وصیت اُسی شرح سے ادا کرے گا جس کا اس نے اپنی وصیت میں عہد کیا ہے، نہ کہ چندہ عام کی شرح سے۔ موصی کی زندگی میں وصیت صرف کاروبار سے حاصل ہونے والی آمد پر ادا کی جاتی ہے۔ خالص اثاثہ جات — یعنی کاروبار کے کل اثاثہ جات منہا کل واجبات — پر ادائیگی وفات کے بعد ہوتی ہے، یا موصی چاہے تو اپنی زندگی میں بھی کر سکتا ہے۔ کاروباری سرمایہ (working capital) پر کوئی چندہ نہیں۔
کسی بھی قسم کے کاروبار میں — خواہ وہ فیکٹری ہو، مل ہو یا تعمیراتی کمپنی — صرف وہی حصہ موصی کی جائیداد شمار ہو گا جو حقیقتاً اس کا ہے۔ مثلاً اگر کمپنی کے تمام اثاثہ جات (بشمول مستقل اثاثہ جات، واجب الوصول رقوم اور بینک بیلنس) کی کل قیمت ایک کروڑ ہو، جس میں سے 60 لاکھ بینکوں اور دیگر قرض خواہوں کا ہو، تو موصی کا حصہ 40 لاکھ بنے گا۔ یہی رقم موصی کی جائیداد شمار ہو گی اور اسی پر وہ حصہ جائیداد ادا کرے گا۔ بالفاظِ دیگر جائیداد کی کل قیمت میں سے اس کے واجبات منہا کرنے کے بعد جو رقم بچے وہی موصی کا وہ حصہ ہے جس پر حصہ جائیداد ادا کیا جاتا ہے۔
کاروبار پر حصہ جائیداد موصی کی وفات کے بعد ادا کرنا ہوتا ہے۔ اگر موصی اسے اپنی زندگی میں ادا کرنا چاہے تو کاروبار کی کل قیمت کی تشخیص کی جاتی ہے، کاروبار کے تمام واجبات منہا کیے جاتے ہیں اور باقی ماندہ رقم پر حصہ جائیداد واجب ہوتا ہے۔
کاروبار کی خالص مالیت پر حصہ جائیداد عموماً موصی کی وفات کے وقت ادا کیا جاتا ہے۔ چونکہ کاروبار کی قیمت وقت کے ساتھ گھٹتی بڑھتی رہتی ہے، اس لیے عموماً اُسی مرحلہ پر اس کی قیمت کا تعین زیادہ مناسب ہوتا ہے۔
تاہم اگر کوئی موصی یہ ذمہ داری اپنی زندگی میں پوری کرنا چاہے تو کاروبار کی قیمت کی تشخیص کی جاتی ہے اور اس کی تشخیص شدہ خالص مالیت کی بنیاد پر حصہ جائیداد ادا کیا جا سکتا ہے۔
البتہ یاد رہے کہ حصہ جائیداد کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لینے سے یہ ذمہ داری ہمیشہ کے لیے ختم نہیں ہو جاتی اگر بعد میں کاروبار کی قیمت بڑھ جائے۔ اگر تشخیص اور ادائیگیِ حصہ جائیداد کے بعد کاروبار کی قیمت میں اضافہ ہو جائے تو موصی اس اضافہ شدہ خالص مالیت پر حصہ جائیداد ادا کرنے کا ذمہ دار رہے گا۔
کاروبار کی قیمت میں اضافہ منافع میں سے (جس پر حصہ آمد پہلے ادا ہو چکا ہو) دوبارہ سرمایہ کاری کرنے سے ہو سکتا ہے، یا باہر سے مزید سرمایہ شامل کرنے سے۔ اس کی مثال یوں ہے جیسے کوئی موصی اپنی ذاتی بچت سے (جس پر حصہ آمد پہلے ادا ہو چکا ہے) اپنے مکان میں کوئی اضافی تعمیر کرائے۔ اگرچہ اس بچت پر حصہ آمد ادا ہو چکا ہے، مگر نئی بننے والی جائیداد پر حصہ جائیداد کی نئی ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے۔ یہی اصول کاروبار کی قیمت میں اضافہ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
چنانچہ اگر کسی کاروبار پر حصہ جائیداد ادا کیا جا چکا ہو اور سرٹیفکیٹ بھی جاری ہو چکا ہو، مگر بعد کی تشخیص سے معلوم ہو کہ کاروبار کی قیمت پہلی تشخیص میں شامل رقم سے بڑھ چکی ہے، تو اس زائد قیمت پر حصہ جائیداد واجب ہو گا۔
آپ کی تلاش سے کوئی سوال میل نہیں کھاتا۔ کوئی اور لفظ آزمائیں۔
شیڈول سی سے متعلق سوالات فی الحال صرف انگریزی میں دستیاب ہیں۔ Schedule C questions (English)