حصہ آمد سے متعلق سوالات

اُن غیر کمانے والی خواتینِ خانہ کو چندہ حصہ آمد کس طرح ادا کرنا چاہیے جن کا اپنا کوئی ذریعہ آمد نہیں؟

Read in English

جس موصی کا اپنا کوئی ذریعہ آمد نہ ہو اس کے بارے میں مروجہ طریق یہ ہے کہ اس کا شریکِ حیات ایک مناسب رقم بطور جیب خرچ مقرر کرے، جسے وصیت کے لحاظ سے موصی کی آمد شمار کیا جاتا ہے۔ اپنی مالی قربانی کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے موصی کو اسی جیب خرچ پر چندہ حصہ آمد ادا کرنا چاہیے۔

جیب خرچ موصی کے معیارِ زندگی کے مطابق ہونا چاہیے، اور موصی کی مالی قربانی چندہ عام ادا کرنے والے رکن کی قربانی سے ممتاز ہونی چاہیے۔ بہر حال یہ جیب خرچ اُس کم سے کم رقم سے کم نہیں ہونا چاہیے جو مجلسِ کارپرداز نے ملکِ رہائش کے لیے مقرر کی ہے۔

جماعت احمدیہ امریکہ کے لیے مجلسِ کارپرداز نے کم سے کم معیارِ آمد (جسے غیر کمانے والے اراکین، بشمول خواتینِ خانہ، کے لیے ”جیب خرچ“ بھی کہا جاتا ہے) 250 ڈالر ماہانہ مقرر کیا ہے۔ اس رقم کی بنیاد پر 1/10 کی عام شرحِ وصیت کے مطابق کم سے کم واجب الادا چندہ حصہ آمد 25 ڈالر ماہانہ بنتا ہے۔ اگر کسی موصی نے اس سے زیادہ شرحِ وصیت مقرر کر رکھی ہو تو اسی 250 ڈالر ماہانہ جیب خرچ پر اسی شرح کے مطابق حصہ آمد شمار کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ قواعد کے مطابق وہ تمام موصیان جن کی اپنی کوئی آمد نہیں (مثلاً خواتینِ خانہ) اپنے معیارِ زندگی کے مطابق حصہ آمد ادا کرنے کے پابند ہیں۔ 250 ڈالر ماہانہ آمد ایسے موصیان کے لیے مالی قربانی کا کم سے کم معیار ہے؛ اگر اُنہیں اس سے زیادہ جیب خرچ ملتا ہو تو حصہ آمد اسی کے مطابق ادا کیا جائے۔

یہ قاعدہ طلبہ پر لاگو نہیں ہوتا۔