موصی کی وفات کے بعد ادائیگیِ وصیت سے متعلق سوالات
کیا موصی کی جائیداد میں سے تدفین کے اخراجات منہا کرنے کا کوئی جواز ہے؟
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے موصی فارمِ وصیت کی پہلی شق میں یہ اقرار کرتا چلا آ رہا ہے:
”کہ میرے مرنے کے بعد نعش کو بہشتی مقبرہ واقعہ قادیان میں دفن کرنے کے لیے قادیان پہنچایا جائے بشرطیہ کہ مجلس کار پرداز مصالح قبرستان کی طرف سے ایسا کرنے کی مجھے یا میرے بعد میرے ورثا کو اجازت حاصل ہو جائے اور نعش کو قادیان پہنچانے کے اخراجات اگر میں فوت ہونے سے پہلے خزانہ صدر انجمن احمد یا ربوہ میں جمع نہ کر سکا /سکی تو میرے جائیداد متروکہ میں سے وضع کیے جائیں لیکن ایسے اخراجات کا اثر اس حصہ جائیداد پر نہ پڑے گا جو میں اس وصیت کی روح سے صدر انجمن احمدیہ ربوہ کو دیتا/ دیتی ہوں۔“
جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ سے یہ سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”موصیان کو وہی اقرار کرتے رہنا چاہیے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے موصیان کرتے تھے۔ اس میں تبدیلی کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔“