حصہ جائیداد سے متعلق سوالات

اگر ایک موصی جائیداد کے کاروبار سے وابستہ ہو اور مکانات کو بطور سرمایہ کاری خرید کر (اور مرمت کر کے) فروخت کرتا رہتا ہو، نہ کہ اُنہیں طویل عرصہ اپنے پاس رکھتا ہو، تو وصیت کس طرح شمار ہو گی؟

Read in English

مکانات کی خرید و فروخت کے کاروبار کو سرمایہ کاری شمار کیا جاتا ہے۔ جب موصی کوئی جائیداد مرمت و تزئین کر کے دوبارہ فروخت کرنے کی غرض سے خریدتا ہے تو اس سرمایہ کاری پر حصہ جائیداد واجب ہوتا ہے۔ موصی یہ ذمہ داری یا تو جائیداد خریدتے وقت قیمتِ خرید کی بنیاد پر پوری کر سکتا ہے یا فروخت کے وقت خالص حاصل شدہ رقم کی بنیاد پر۔

فروخت سے حاصل ہونے والا کوئی بھی منافع آمد شمار ہو گا اور اس پر موصی کی منظور شدہ شرحِ وصیت کے مطابق حصہ آمد واجب ہو گا۔

اگر موصی جائیداد فروخت کرتے وقت حصہ جائیداد ادا کرنے کا انتخاب کرے تو یہ فروخت سے حاصل ہونے والی خالص رقم پر شمار ہو گا، جس میں اصل سرمایہ کاری اور حاصل شدہ منافع دونوں شامل ہیں۔ اس رقم پر حصہ جائیداد ادا ہو جانے کے بعد باقی ماندہ رقم دوبارہ لگائی جا سکتی ہے۔ اگر یہ رقم کسی اور ایسے ہی منصوبے میں لگائی جائے تو جس رقم پر پہلے حصہ جائیداد ادا ہو چکا ہے وہ نئی سرمایہ کاری میں شمار کر لی جائے گی اور حصہ جائیداد صرف اضافی رقم پر واجب ہو گا۔

مثال

ایک موصی مکانات کی خرید و فروخت کے ایک منصوبے میں 40,000 ڈالر لگاتا ہے مگر خریداری کے وقت حصہ جائیداد ادا نہیں کرتا۔ جائیداد کی مرمت و تزئین کے بعد اسے فروخت کرنے پر موصی کو 60,000 ڈالر ملتے ہیں، جن میں اصل 40,000 ڈالر کی سرمایہ کاری اور 20,000 ڈالر کا منافع شامل ہے۔

موصی فروخت سے ملنے والے 60,000 ڈالر پر 6,000 ڈالر بطور حصہ جائیداد ادا کرتا ہے۔ حاصل شدہ 20,000 ڈالر کے منافع پر بھی موصی کی منظور شدہ شرحِ وصیت کے مطابق حصہ آمد واجب ہو گا۔

پھر موصی پہلے منصوبے کی باقی ماندہ 54,000 ڈالر کی رقم دوبارہ لگاتا ہے اور مزید 16,000 ڈالر شامل کر کے دوسرے منصوبے میں کل 70,000 ڈالر کی سرمایہ کاری کرتا ہے۔ اس سرمایہ کاری سے 30,000 ڈالر کا منافع ہوتا ہے اور فروخت سے کل 100,000 ڈالر حاصل ہوتے ہیں۔

چونکہ پہلے منصوبے سے منتقل ہونے والے 54,000 ڈالر پر حصہ جائیداد پہلے ہی ادا ہو چکا ہے، اس لیے یہ رقم دوسرے منصوبے کی 100,000 ڈالر کی فروخت میں شمار کر لی جائے گی۔ چنانچہ حصہ جائیداد صرف اضافی 46,000 ڈالر پر واجب ہو گا، یعنی 4,600 ڈالر کی ادائیگی بنے گی۔ اس کے بعد 30,000 ڈالر کے منافع پر موصی کی منظور شدہ شرحِ وصیت کے مطابق حصہ آمد واجب ہو گا۔