درخواستِ وصیت اور اہلیت سے متعلق سوالات
چندہ شرطِ اوّل کیا ہے اور کتنا ادا کرنا چاہیے؟
چندہ شرطِ اوّل وہ یک مشت چندہ ہے جو درخواست کنندہ وصیت کی پہلی شرط کے تحت ادا کرتا ہے، اور جس کا حکم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ الوصیت میں دیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں اس چندہ کی غرض یہ ہے:
”سو پہلی شرط یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اس قبرستان میں مدفون ہونا چاہتا ہے وہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے اِن مصارف کے لئے چندہ داخل کرے۔“
الوصیت صفحہ ۲۴
بنیادی اصول یہ ہے کہ وصیت کا خواہش مند اپنی توفیق کے مطابق یہ چندہ ادا کرے تاکہ مقبرہ کے انتظام اور دیکھ بھال کی ضروریات پوری ہو سکیں۔ اس لیے وصیت کے خواہش مند کو یہ چندہ اپنی آمد، اپنے اثاثہ جات اور مقبرہ موصیان کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ادا کرنا چاہیے۔
قواعدِ وصیت کے قاعدہ نمبر 28 کے مطابق:
”وصیت کنندہ کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ مقبرہ بہشتی اور اس کے باغ وغیرہ کے قیام اور راستہ کی درستی اور دیگر متفرق اخراجات کے لیے اپنی حیثیت کہ مطابق وصیت کرنے کے ساتھ کچھ چندہ داخل کرے جوزر وصیت کے علاوہ ہو۔ یہ چندہ شرطِ اوّل کہلاتا ہے۔“
الوصیت، شرط نمبر 1