درخواستِ وصیت اور اہلیت سے متعلق سوالات

چندہ شرطِ اوّل کیا ہے اور کتنا ادا کرنا چاہیے؟

Read in English

چندہ شرطِ اوّل وہ یک مشت چندہ ہے جو درخواست گزار وصیت کی پہلی شرط کے تحت ادا کرتا ہے، اور جس کا حکم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ الوصیت میں دیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں اس چندہ کی غرض یہ ہے:

”پس پہلی شرط یہ ہے کہ جو شخص اس مقبرہ میں دفن ہونا چاہے وہ اپنی حسبِ توفیق اس کے انتظام و دیکھ بھال کے اخراجات میں حصہ لے۔“

الوصیت

بنیادی اصول یہ ہے کہ وصیت کا خواہش مند اپنی توفیق کے مطابق یہ چندہ ادا کرے تاکہ مقبرہ کے انتظام اور دیکھ بھال کی ضروریات پوری ہو سکیں۔ اس لیے وصیت کے خواہش مند کو یہ چندہ اپنی آمد، اپنے اثاثہ جات اور مقبرہ موصیان کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ادا کرنا چاہیے۔

قواعدِ وصیت کے قاعدہ نمبر 28 کے مطابق:

”وصیت کے خواہش مند پر لازم ہو گا کہ وہ رقمِ وصیت کے علاوہ اپنی مالی حیثیت کے مطابق بہشتی مقبرہ، اس کے باغ، راستے کی دیکھ بھال اور دیگر متفرق اخراجات کے لیے بھی چندہ ادا کرے۔ یہ چندہ چندہ شرطِ اوّل کہلاتا ہے۔“

الوصیت، شرط نمبر 1