حصہ جائیداد سے متعلق سوالات

قرض یا مارگیج پر حاصل کی گئی جائیداد کے بارے میں کیا راہنمائی ہے؟

Read in English

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے قرض پر حاصل کی گئی جائیداد کے بارے میں درج ذیل راہنمائی عطا فرمائی:

”اس ضمن میں اصولی طرز عمل یہ ہے کہ جو شخص زندگی میں اپنی جائیداد کا حصہ وصیت ادا کرنا چاہتا ہے تو اس سے بعض شرائط کے ساتھ منظور کر لیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں نے اپنی جائیداد پر اتنا قرض دینا ہے یہ منہا کر لیا جائے اور بقیہ پر حصہ وصیت کی ادائیگی ہو جائے تو ایسے معاملے میں بعض پچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ان پچیدگیوں سے بچنے کے لیے عام طور پر یہی بہتر ہے کہ جس نے قرض پر جائداد بنائی ہو اس جائیداد کا حصہ وصیت اس کی زندگی میں اسی صورت میں قبول کیا جائے کہ وہ قرض کی ذمہ داری اپنی ذات پر رکھے اور پوری جائیداد کی قیمت پر حصہ وصیت ادا کر کے فارغ ہو جائے۔

اگر وہ قرض کو منہا کر کے حصہ وصیت عطا کرنا چاہے تو منظوری کی صورت میں اس کا مطلب صرف یہ ہوگا کہ یہ حصہ وصیت صرف اس جائیداد کا ہوا ہے جس پر کسی قسم کا قرض نہیں تھا۔ اور جس جائیداد پر قرض ہے اس کا معاملہ وفات کے دن تک ملتوی سمجھا جائے گا۔ یعنی اگر اس وقت تک قرض ادا کر دیا گیا ہو تو جائیداد کے اس حصہ کی وصیت کا مطالبہ وفات کے بعد کیا جائے گا۔ کیونکہ اس نے اپنی زندگی میں قرض کے عذر پر اس حصہ کی وصیت عطا نہ کی تھی۔ اگر کچھ قرض باقی ہو تو پھر اس جائیداد کا تخمینہ کر کے اس میں سے قرض منہا کر لیا جائے اور بقیہ قیمت جائیداد پر وصیت واجب الادا ہوگی۔ یہ اصولی طرز عمل ہے اس کا سب پر اطلاق ہوگا۔"

( خط محررہ جنوری 28 ، ۱۹۹۰)