کاروبار و تجارت سے متعلق سوالات

کیا چندہ وصیت کاروبار کی خالص آمد پر واجب ہے، یا صرف اُس رقم پر جو تاجر منافع میں سے روزمرہ استعمال کے لیے نکالتا ہے؟

Read in English

تاجر حضرات اپنی کل خالص آمد پر چندہ ادا کریں گے، یعنی مجموعی آمد میں سے وہ اخراجات منہا کرنے کے بعد جو اس آمد کے حصول کے لیے ضروری تھے۔ صرف اُس رقم پر چندہ حصہ آمد ادا کرنا درست نہیں جو کاروبار میں سے ماہانہ اخراجات کے لیے نکالی جاتی ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اس بارے میں اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مارچ 1986ء میں یہ راہنمائی عطا فرمائی:

"تاجر یہ حرکت کرتے ہیں کہ اپنے سارے اخراجات تجارتی کمپنیوں پر ڈال دیتے ہیں اس سے ٹیکس بھی بچتا ہے اور وصیت بھی بچ جاتی ہے۔ اور اپنے نام ایک سرسری سی رقم رکھ لیتے ہیں کہ ہم مہینہ میں پانچ سو روپے گھر لے کر گئے تھے اور وصیت پانچ سو روپے پر۔ لکھ پتی ہیں، ہزار ہا روپیہ ان کا ہفتہ کا خرچ ہو رہا ہوتا ہے، اولادیں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہوتی ہیں، ہر قسم کی نعمتیں حاصل ہیں مگر سب کے سب یا اکثر حصہ وہ کسی نہ کسی کمپنی کے نام کے اوپر کسی حساب میں وصول کیا جا رہا ہوتا ہے۔ حالانکہ امرِ واقعہ یہ ہے کہ چاہے ڈائریکٹر کے نام دو لکھ دو یا بچوں کے نام پر جو چاہو کر و، کمانے والے کی اپنی کمائی ہے۔ اللہ کو علم ہے کہ کس کی کمائی ہے اور وہ اگر دنیا کے قوانین سے استفادہ کی خاطر یہ حرکتیں کرتا ہے تو بعض دفعہ دنیا کا قانون اجازت بھی دیتا ہے لیکن خدا کے قانون کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا، وہ دنیا کے قانون کے تابع نہیں ہے، وہ الگ معاملہ کرے گا۔"