حصہ جائیداد سے متعلق سوالات
اگر ایک شخص اپنی آمد پر ماہانہ چندہ حصہ آمد ادا کرتا ہے اور اسی آمد سے جائیداد بناتا ہے، تو کیا اس جائیداد پر حصہ جائیداد بھی ادا کرنا ہو گا؟ کیا اس طرح ایک ہی آمد پر دو مرتبہ وصیت ادا نہ ہو گی؟
یہ سوال حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش ہوا، جس کا جواب آپؓ نے یوں دیا:
”ہاں دینا چاہیے۔ وصیت تو اصل میں مرنے کے بعد اُس میں سے دینی ہے جو کچھ انسان چھوڑ کر جاتا ہے۔ جب انسان اپنی آمد میں سے روپیہ بچا کر جائیداد بناتا ہے تو اگر جائیداد کی بجائے وہ اسے کسی اور کام میں لگاتا تو جو آمد اس سے ہوتی، اس میں سے وہ حصہ وصیت ادا کرتا۔ پس جب وہ جائیداد پر روپیہ خرچ کرتا ہے تو اس میں سے حصہ کیوں نہ دے، کیونکہ یہ جائیداد ہی تو ہے جو پیدا ہوئی ہے۔ اگر ایک شخص کے پاس دس گھمائوں زمین ہو اور ایک گھمائوں وصیت میں دینے کے بعد باقی زمین کی آمد سے کچھ روپیہ جمع کر لے، جس کی اس کی وفات کے بعد تشخیص ہو، تو اس پر بھی حصہ وصیت ادا کرنا ہو گا۔“