حصہ جائیداد سے متعلق سوالات

اگر مقامی قانون کے تحت جائیداد میاں بیوی کی مشترکہ ملکیت شمار ہوتی ہو مگر وہ صرف ایک فریق نے خریدی اور اس کی پوری رقم ادا کی ہو، تو وصیت کے لحاظ سے ملکیت کا کتنا تناسب تسلیم کیا جائے گا؟

Read in English

قواعدِ وصیت میں طریقِ تشخیص کے تحت ضابطہ نمبر 10 میں درج ہے:

”موصی کی وہ جائیداد جو کسی قانونی تقاضے یا ضرورت کے تحت کسی دوسرے شخص کے نام بھی ہو، اُسی شخص کی ملکیت شمار ہو گی جس نے حقیقتاً اسے خریدا ہے، اور اسے مشترکہ جائیداد نہیں سمجھا جائے گا۔“

* الف) چنانچہ اگر قانونی تقاضوں، مقامی قوانین یا اسی نوعیت کی وجوہات کی بنا پر موصی نے جائیداد کے کاغذات میں اپنے شریکِ حیات یا کسی اور وارث کو مشترکہ مالک کے طور پر شامل کیا ہو، مگر اس فرد نے جائیداد کی خرید، حصول، ترقی یا تعمیر میں کوئی مالی حصہ نہ ڈالا ہو، تو جائیداد صرف اُسی موصی کی ملکیت شمار ہو گی جس نے اس کی رقم ادا کی۔ وہی موصی 100 فیصد مالک شمار ہو گا اور جائیداد کی پوری قیمت پر حصہ جائیداد ادا کرنے کا ذمہ دار ہو گا۔ اگر دوسرا شریکِ حیات بھی موصی ہو مگر اس نے جائیداد میں کوئی مالی حصہ نہ ڈالا ہو تو جائیداد اس کی ملکیت شمار نہیں ہو گی اور نہ ہی اس پر اس کا حصہ جائیداد لازم ہو گا۔

* ب) اگر شریکِ حیات یا کسی اور مشترکہ مالک نے جائیداد کی خرید، حصول، ترقی یا تعمیر میں مالی حصہ ڈالا ہو تو ملکیت ہر فریق کے مالی حصہ کے تناسب سے متعین ہو گی۔

* ج) اگر مشترکہ مالکان میں سے ایک کی وفات ہو جائے اور جائیداد میں اس کا حصہ زندہ شریکِ حیات کو بطور وراثت ملے، اور وہ شریکِ حیات موصی ہو، تو اس پر اِس ورثہ میں ملنے والے حصہ پر مقررہ شرح کے مطابق حصہ جائیداد ادا کرنا لازم ہو گا۔