حصہ جائیداد سے متعلق سوالات
اگر ایک موصی نے کوئی جائیداد حاصل کی یا ورثہ میں پائی اور بعد میں وہ کسی اور کو ہبہ کر دی، تو کیا اس جائیداد پر حصہ جائیداد واجب ہو گا؟
قواعدِ وصیت میں طریقِ تشخیص کے تحت ضابطہ نمبر 11 میں درج ہے:
”وہ جائیداد جو موصی نے حاصل کی ہو مگر بعد میں ہبہ کر دی ہو یا کسی اور کے نام کروا دی ہو، وہ بھی موصی کے ترکہ کا حصہ شمار ہو گی۔“
مزید برآں قواعدِ وصیت کے قاعدہ نمبر 49 میں درج ہے:
”(الف) اگر موصی اپنی غیر منقولہ جائیداد اپنے وارث یا وارثوں کے حق میں ایسے حالات میں ہبہ کرے کہ وہ اُن وارثوں کے لیے وصیت کی طرح معلوم ہو، یا جس سے وصیت کی روح کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو، تو ایسی جائیداد پر بھی حصہ جائیداد واجب ہو گا اور موصی کی وفات کی صورت میں وہ جائیداد موصی کا ترکہ شمار ہو گی۔
(ب) اگر موصی اپنی وہ منقولہ جائیداد، جس پر وصیت کی ادائیگی لازم ہے، اپنے وارث یا وارثوں کے حق میں ایسے حالات میں ہبہ کرے کہ وہ اُن وارثوں کے لیے وصیت کی طرح معلوم ہو، یا جس سے وصیت کی روح کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو، تو ایسی منقولہ جائیداد پر بھی حصہ وصیت واجب ہو گا۔“
پس موصی پر ایسی جائیداد کا حصہ جائیداد ادا کرنا لازم ہے۔