حصہ آمد سے متعلق سوالات
شدید مالی تنگی کی صورت میں کیا موصی کو چندہ حصہ آمد یا حصہ جائیداد میں معافی یا رعایت دی جا سکتی ہے؟
غیر موصی اراکین حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو تحریر کر کے چندہ عام میں رعایت یا معافی کی درخواست کر سکتے ہیں۔ تاہم قواعدِ وصیت کے تحت کسی موصی کو حصہ آمد یا حصہ جائیداد کے واجبات میں معافی نہیں دی جا سکتی۔
قاعدہ 60: وصیت کے واجبات کے بقایاجات کی معافی کسی بھی صورت میں نہیں دی جا سکتی۔
قواعدِ وصیت میں شدید مالی تنگی کی صورت میں صرف یہی گنجائش موجود ہے کہ وصیت منسوخ کرا لی جائے۔
قاعدہ 66: جو موصی وسائل کی کمی کے باعث اپنی وصیت جاری رکھنے سے قاصر ہو، اس کی درخواست پر اس کی وصیت منسوخ کر دی جائے گی۔
اگر موصی بعد میں اپنی وصیت بحال کرانا چاہے تو قاعدہ 75 لاگو ہو گا:
قاعدہ 75: قاعدہ 66 کے تحت منسوخ شدہ وصیت کی بحالی پر موصی کی درخواست پر اُنہی شرائط و ضوابط کے مطابق غور کیا جا سکتا ہے جو نئی وصیت پر لاگو ہوتی ہیں۔ مزید برآں یہ بھی ضروری ہو گا کہ:
(i) وہ منسوخی کے وقت واجب الادا چندہ وصیت کے بقایاجات ادا کرے۔
(ii) وہ اُس عرصہ میں جس میں اس کی وصیت منسوخ رہی، مقررہ شرح کے مطابق باقاعدگی سے چندہ عام ادا کرتا رہا ہو۔
(iii) وہ منسوخی کے عرصہ کے لیے ادا شدہ چندہ عام اور واجب الادا حصہ آمد کا فرق ادا کرے۔
نوٹ: اگر بعض حالات کی بنا پر متعلقہ شخص اپنی وصیت بحال نہ کرا سکے تو مجلسِ کارپرداز اس کی نئی وصیت کی درخواست پر غور کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں مذکورہ بالا شق (iii) پر عمل ضروری نہیں ہو گا۔
(قراردادِ غیر معمولی نمبر 11، صدر انجمن احمدیہ پاکستان، مورخہ 13 اپریل 1989ء)