حصہ جائیداد سے متعلق سوالات
اگر موصی پر جائیداد کا مارگیج قرض ابھی باقی ہو اور وہ اس کے صرف ایک حصہ کا مالک ہو تو حصہ جائیداد کتنا واجب ہو گا؟
قواعدِ وصیت میں طریقِ تشخیص کے تحت ضابطہ نمبر 9 میں درج ہے:
”ہر ایسی جائیداد جو مارکج پر خریدی گئی ہو اس پر حصہ جائیداد کی ادائیگی لازمی ہے اس کی ادائیگی کے دو طریقے ہیں۔
اول: اگر وہ زندگی میں اپنی مارگیج والی جائیداد کا حصہ ادا کرنا چاہتا ہے تو اس جائیداد کی باقاعدہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق حسب ضابطہ تشخیص ہوگی اور مارگیج کی رقم منہا نہیں کی جائے گی ۔
دوم: اگر اس کا حصہ جائداد زندگی میں ادا نہ کیا ہو تو باوقت وفات مارگیج کی رقم جو قابل ادا رہتی ہوگی منہا کرنے کے بعد بقیہ رقم پر حصہ جائداد واجب الادا ہوگا۔“
مذکورہ بالا قاعدہ کی روشنی میں مارگیج پر حاصل کی گئی جائیداد کا حصہ جائیداد ادا کرنے کی صرف دو صورتیں ہیں:
- الف) اگر موصی اپنی زندگی میں حصہ جائیداد ادا کرنا چاہے تو جائیداد کی تشخیص موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہو گی اور باقی ماندہ مارگیج منہا نہیں کیا جائے گا، کیونکہ زندگی میں قرض کو شمار نہیں کیا جاتا۔ ایک بار حصہ جائیداد مکمل ادا ہو جانے کے بعد اُس جائیداد کی قیمت میں آئندہ ہونے والے اضافہ پر مزید حصہ جائیداد واجب نہیں ہو گا۔
- ب) اگر موصی اپنی زندگی میں حصہ جائیداد ادا نہ کرے تو اس کی وفات کے بعد ترکہ اس ترتیب سے تقسیم ہو گا: پہلے تمام قرض ادا کیے جائیں گے، پھر وصیت پوری کی جائے گی، اور آخر میں باقی ماندہ ترکہ بطور وراثت تقسیم ہو گا۔ ایسی صورت میں پہلے باقی ماندہ مارگیج جائیداد کی قیمت میں سے منہا کیا جائے گا اور پھر باقی ماندہ قیمت پر حصہ جائیداد شمار کر کے ادا کیا جائے گا — یعنی موصی کی وفات کے وقت جائیداد میں اس کی حقیقی ملکیت (equity) پر۔